Saturday, July 28, 2012

**JP** آج کی تراویح2012-07-28

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آج کی تراویح

محمد احمد وصفی 2012-07-28
-آج کی تراویح گیارہویں پارے سے شروع ہوکر بارہویں پارے کے ربع تک کی تلاوت پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو زکوٰۃ کو اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں زمانے کی گردش کا انتظار کررہے ہیں کہ موقع ملتے ہی منحرف ہوجائیں۔ ایسے لوگوں کا چکر خود انہی پر مسلط ہے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ وہ مہاجر اور انصاری، جنہوں نے سب سے پہلے دعوتِ اسلام قبول کی، اور وہ نیک لوگ جو ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سب سے راضی ہوا۔ اور ان کے لئے جنت کی بشارت ہے۔ اس کے بعد مسجد ضرار کا ذکر ہے، جسے منافقین نے مسلمانوں میں نفاق پیدا کرنے کے لئے بنایا تھا۔ اللہ نے اس کی مذمت فرمائی اور وہ مسمار کردی گئی۔ اس کے بعد ان تین صحابہؓ کا ذکر ہے جنہوں نے دانستہ جہاد میں شرکت نہیں کی تھی۔ ان کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا گیا تھا۔ پچاس دن بعد اللہ نے ان کی توبہ قبول فرماکر انہیں معاف کردیا تھا۔ اب سورۂ یونس میں فرمایا کہ قرآن حکمت و دانش کی کتاب ہے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ ہم نے تم ہی میں سے ایک آدمی کو تمہاری ہدایت کے لئے پیغمبر بناکر تمہارے درمیان بھیجا ہے۔ جو شخص بھی ان کی ہدایت قبول کرے گا، فلاح پائے گا۔ منکرین کے حق میں کوئی شفاعت کام نہیں دے گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے ڈرایا ہے اور جنت کی نعمتوں کی خوش خبری دی ہے۔ ناشکرے لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر ہر وقت اللہ کے حضور گڑگڑاتے ہیں۔ مگرجب اللہ ان کی مصیبت دور کردیتا ہے اور ان پر اپنا فضل فرما دیتا ہے تو پھر یہی لوگ ایسے ناشکرے ہوجاتے ہیں گویا ان پر کوئی برا وقت پڑا ہی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ''قرآن کوئی ایسی کتاب نہیں جو بغیر اللہ کی وحی کے کسی نے خود تصنیف کرلی ہو۔ اور اگر اے لوگو! تم کو ایسا شک ہے تو اس جیسی ایک سورۃ ہی بنالائو اور اپنی مدد کے لئے اللہ کے سوا جسے جی چاہے بلالو، یقینا تم کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق آچکا ہے۔ اب جو سیدھی راہ اختیار کرے گا، اس کی راست روی اس کے لیے فلاح کا باعث ہوگی اور جو گمراہ رہیں گے ان کے لئے ان کی گمراہی تباہی کا سبب بنے گی۔ صبر کیجیے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے۔ اور اللہ ہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس کے بعد سورۂ ہود میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ''قرآن مجید ایک حکم اور ایک نظام ہے اور اس کا نازل کرنے والا دانا اور باخبر ہے۔ کسی غیر اللہ کی بندگی نہ کرو، بندگی کے لئے صرف اللہ کی ذات واحد ہے۔ اور اللہ کا نبی، اللہ کی طرف سے خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہے۔ منکرو! تم اپنے کیے کی معافی چاہو، اور اللہ کی طرف لوٹ آئو' ورنہ تم کو ایک ہولناک عذاب کی تنبیہ کی جاتی ہے۔ زمین پر چلنے والا کوئی جان دار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ لوگ بہت ناشکرے ہیں، پریشانی اور مایوسی کی حالت میں اللہ پر الزام لگاتے ہیں اور جب اللہ ان کو اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے تو اترانے لگتے ہیں، اور مغرور ہوجاتے ہیں۔ اس سورۃ میں بھی اللہ تعالیٰ نے منکروں کو چیلنج کیا ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن پیغمبروں کی خود ساختہ کتاب ہے تو تم بھی اس جیسی سورتیں تصنیف کرکے لے آئو اور (اللہ کے سوا) اپنے مددگار کو بھی ساتھ لے لینا، یقینا تم ایسا نہیں کرسکو گے۔
 

No comments:

Post a Comment