Thursday, July 14, 2011

**JP** Shab-e-Bara'at... Rahmat-o-Maghfirat ki Raat [URDU]

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/282679_10150235577920334_672380333_7952943_1640316_n.jpg
ماہِ شعبان کی پندرہویں رات کو شبِ برأت کہا جاتا ہے شب کے معنی ہیں رات اور برأت کے معنی بری ہونے اور قطع تعلق کرنے کے ہیں ۔ چونکہ اس رات مسلمان توبہ کرکے گناہوں سے قطع تعلق کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بے شمار مسلمان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لیے اس رات کو شبِ برأت کہتے ہیں ۔ اس رات کو لیلۃ المبارکۃ یعنی برکتوں والی رات، لیلۃ الصک یعنی تقسیم امور کی رات اور لیلۃ الرحمۃ یعنی رحمت نازل ہونے کی رات بھی کہا جاتا ہے۔

جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں ، ''لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرھویں شب سے افضل کوئی رات نہیں ''۔ (لطائف المعارف ص ١٤٥)

جس طرح مسلمانوں کے لیے زمین میں دو عیدیں ہیں اس یطرح فرشتوں کے آسمان میں دو عیدیں ہیں ایک شبِ برأت اور دوسری شبِ قدر جس طرح مومنوں کی عیدیں عید الفطر اور عید الاضحٰی ہین فرشتوں کی عیدیں رات کو اس لیے ہیں کہ وہ رات کو سوتے نہیں جب کہ آدمی رات کو سوتے ہیں اس لیے ان کی عیدیں دن کو ہیں ۔ (غنیۃ الطالبین ص ٤٤٩)

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/262264_10150235552745334_672380333_7952886_7222619_n.jpg

تقسیمِ امور کی رات

ارشاد باری تعالیٰ ہوا، ''قسم ہے اس روشن کتاب کی بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس میں بانٹ دیا جاتا ہے ہر حکمت والا کام''۔ (الدخان ٢ تا ٤ ، کنزالایمان)

''اس رات سے مراد شبِ قدر ہے یا شبِ برأت'' (خزائن العرفان) ان آیات کی تفسیر میں حضرتِ عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور بعض دیگر مفسرین نے بیان کیا ہے کہ ''لیلۃ مبارکۃ'' سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے ۔ اس رات میں زندہ رہنے والے ، فوت ہونے والے اور حج کرنے والے سب کے ناموں کی فہرست تیار کی جاتی ہے اور جس کی تعمیل میں ذرا بھی کمی بیشہ نہیں ہوتی ۔ اس روایت کو ابن جریر، ابن منذر اور ابنِ ابی حاتم نے بھی لکھا ہے۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ فہرست کی تیاری کا کام لیلۃ القدر مین مکمل ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کی ابتداء پندرہویں شعبان کی شب سے ہوتی ہے۔ (ماثبت من السنہ ص ١٩٤)

علامہ قرطبی مالکی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

ایک قول یہ ہے کہ ان امور کے لوحِ محفوظ سے نقل کرنے کا آغاز شبِ برأت سے ہوتا ہے اور اختتام لیلۃ القدر میں ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ١٢٨)

یہاں ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ امور تو پہلے ہی سے لوح محفوظ میں تحریر ہیں پھر اس شب میں ان کے لکھے جانے کا کیا مطلب ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ امور بلاشبہ لوح محفوظ مین تحریر ہیں لیکن اس شب میں مذکورہ امور کی فہرست لوح محفوظ سے نقل کرکے ان فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہے جن کے ذمہ یہ امور ہیں ۔

حضرتِ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتی ہو کہ شعبان کی پندرہویں شب میں کیا ہوتا ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ فرمائیے۔ ارشاد ہوا آئندہ سال مین جتنے بھی پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ سب اس شب میں لکھ دئیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ آئندہ سال مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات مین لکھ دئیے جاتے ہیں اور اس رات میں لوگوں کا مقررہ رزق اتارا جاتاہے۔ (مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧)

حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں،

''شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ ملک الموت کو ایک فہرست دے کر حکم فرماتا ہے کہ جن جن لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں ان کی روحوں کو آئندہ سال مقررہ وقتوں پر قبض کرنا۔ تو اس شب میں لوگوں کے حالات یہ ہوتے ہیں کہ کوئی باغوں میں درخت لگانے کی فکر میں ہوتا ہے کوئی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے۔ کوئی کوٹھی بنگلہ بنوا رہا ہوتا ہے حالانکہ ان کے نام مُردوں کی فہرست میں لکھے جاچکے ہوتے ہیں ۔ (مصنف عبد الرزاق جلد ٤ ص ٣١٧ ، ماثبت من السنہ ص ١٩٣)

حضرت عثمان بن محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک لوگوں کی زندگی منقطع کرنے کا وقت اس رات میں لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ انسان شادی بیاہ کرتا ہے اور اس کے بچے پیدا ہوتے ہیں حالانکہ اس کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٦ ص ١٢٦، شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٨٦)

چونکہ یہ رات گذشتہ سال کے تمام اعمال بارگاہِ الہٰی میں پیش ہونے اور آئندہ سال ملنے والی زندگی اور رزق وغیرہ کے حساب کتاب کی رات ہے اس لیے اس رات میں عبادت الہٰی میں مشغول رہنا رب کریم کی رحمتوں کے مستحق ہونے کا باعث ہے اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/262194_10150235552470334_672380333_7952882_6008877_n.jpg

مغفرت کی رات

شبِ برأت کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس شب میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بے شمار لوگوں کی بخشش فرما دیتا ہے اسی حوالے سے چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں ۔

(١) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،

ایک رات میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں نکلی میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنت البقیع میں تشریف فرما ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں یہ خوف ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے ساتھ زیادتی کریں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے یہ خیال ہوا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ (ترمذی جلد ١ ص ١٥٦، ابن ماجہ ص ١٠٠، مسند احمد جلد ٦ ص ٢٣٨، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧، مصنف ابنِ ابی شعبہ ج ١ ص ٣٣٧، شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٧٩)

شارحین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث پاک اتنی زیادہ اسناد سے مروی ہے کہ درجہ صحت کو پہنچ گئی۔

(٢) حضرتِ ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،

''شعبان کی پندرہویں شب میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر (اپنی شان کے مطابق) جلوہ گر ہوتا ہے اور اس شب میں ہر کسی کی مغفرت فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور بغض رکھنے والے کے''۔ (شعب الایمان للبیہقی جلد ٣ ص ٣٨٠)

(٣) حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب مین اپنے رحم و کرم سے تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے''۔ (ابنِ ماجہ ص ١٠١، شعب الایمان ج ٣ ص ٣٨٢، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٧)

(٤) حضرت ابوہریرہ ، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابو ثعلیۃ اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی ایسا ہی مضمون مروی ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٦٥)

(٥) حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ

آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''شعبان کی پندرہویں رات میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دو شخصوں کے سوا سب مسلمانوں کی مغفرت فرمادیتا ہے ایک کینہ پرور اور دوسرا کسی کو ناحق قتل کرنے والا''۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٧٦، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٢٧٨)

(٦) امام بیہقی نے شعب الایمان (ج ٣ ص ٣٨٤) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں مغفرت سے محروم رہنے والوں میں ان لوگوں کا بھی ذکر رشتے ناتے توڑنے والا، بطور تکبر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا، ماں باپ کا نافرمان، شراب نوشی کرنے والے۔

(٧) غنیۃ الطالبین ص ٤٤٩ پر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی طویل حدیچ میں مزید ان لوگوں کا بھی ذکر ہے جادوگر، کاہن، سود خور اور بد کار، یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے اپنے گناہوں سے توبہ کیے بغیر ان کی مغفرت نہیں ہوتی۔ پس ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے گناہوں سے جلد از جلد سچی توبہ کرلیں تاکہ یہ بھی شب برأت کی رحمتوں اور بخشش و مغفرت کے حقدار ہوجائیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہوا ''اے ایمان والو اللہ کی طرف ایسی توبہ کرو جو آگے نصیحت ہوجائے''۔ (التحریم ٨ ، کنزالایمان)

یعنی توبہ ایسی ہونی چاہیے جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی گناہوں سے پاک اور عبادتوں سے معمور ہوجائے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کی۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم توبۃ النصوح کسے کہتے ہیں اشاد ہوا بندہ اپنے گناہ پر سخت نادم اور شرمدسار ہو۔ پھر بارگاہ الہٰی میں گڑگڑا کر مغفرت مانگے۔ اور گناہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے تو جس طرح دودھ دوبارہ تھنوں میں داخل نہیں ہوسکتا اسی طرح اس بندے سے یہ گناہ کبھی سرزد نہ ہوگا۔

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-ash4/281445_10150235552535334_672380333_7952883_6760174_n.jpg

رحمت کی رات

شبِ برأت فرشتوں کو بعض امور دئیے جانے اور مسلمانوں کی مغفرت کی رات ہے اس کی ایک او ر خصوصیت یہ ہے کہ یہ رب کریم کی رحمتوں کے نزول کی اور دعاؤں کے قبول ہونے کی رات ہے۔

١۔ حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے۔ ''جب شعبان کی پندرہویں شب آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعلان ہوتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ اس کے گناہ بخش دوں ، ہے کوئی مجھ سے مانگنے والا کہ اسے عطا کروں ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے وہ ملتا ہے۔ وہ سب کی دعا قبول فرماتا ہے سوائے بدکار عورت اور مشرک کے''۔ (شعب الایمان للبیہقی ج٣ ص ٣٨٣)

٢۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ غیب بتانے والے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

جب شعبان کی پندرھویں شب ہو تورات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت آسمان دنیا پر نازل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ہے کوئی مغفرت کا طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں ۔ ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں ، یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔ (ابنِ ماجہ ص ١٠٠، شعب الایمان للبیہقی ج ٣ ص ٣٧٨، مشکوٰۃ ج ١ ص ٢٧٨)

اس حدیث پاک میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت و رحمت کی ندا کا ذکر ہے اگرچہ یہ ندا ہر رات میں ہوتی ہے لیکن رات کے آخری حصے میں جیسا کہ کتاب کے آغاز میں شبِ بیداری کی فضیلت کو عنوان کے تحت حدیث پاک تحریر کی گئی شبِ برأت ی خاص بات یہ ہے کہ اس میں یہ ندا غروب آفتاب ہی سے شروع ہوجاتی ہے گویا صالحین اور شبِ بیدار مومنوں کے لیے تو ہر رات شبِ برأت ہے مگر یہ رات خطاکاروں کے لیے رحمت و عطا اور بخشش و مغفرت کی رات ہے اس لیے ہمیں شاہیے کہ اس رات میں اپنے گناہوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور ربِ کریم سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں ۔ اس شب رحمتِ خداوندی ہر پیاسے کو سیراب کردینا چاہتی ہے اور ہر منگتے کی جھولی گوہرِ مراد سے بھر دینے پر مائل ہوتی ہے۔ بقول اقبال، رحمت الہٰی یہ ندا کرتی ہے

ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں ۔۔۔ راہ دکھلائیں کسے راہرو منزل ہی نہیں

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/268215_10150235552570334_672380333_7952884_3990070_n.jpg

شبِ بیداری کا اہتمام

شبِ برأت میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی شبِ بیداری کی اور دوسروں کو بھی شبِ بیداری کی تلقین فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان اوپر مذکور ہوا کہ "جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو شبِ بیداری کرو اور دن کو روزہ رکھو'' اس فرمان جلیل کی تعمیل میں اکابر علمائے اہلسسنت اور عوام اہلسنت کا ہمیشہ سے یہ معمول رہا ہے کہ رات میں شبِ بیداری کا اہتمام کرتے چلے آئے ہیں۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں،

''تابعین میں سے جلیل القدر حضرات مثلاً حضرت خالد بن معدان، حضرت مکحول، حضرت لقمان بن عامر اور حضرت اسحٰق بن راہویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم مسجد میں جمع ہو کر شعبان کی پندرہویں شب میں شبِ بیداری کرتے تھے اور رات بھر مسجد میں عبادات میں مصروف رہتے تھے''۔ (ما ثبت من السنہ ٢٠٢، لطائف المعارف ص ١٤٤)

علامہ ابنِ الحاج مانکی رحمتہ اللہ علیہ شبِ برأت کے متعلق رقم طراز ہیں

''اور کوئی شک نہیں کہ یہ رات بڑی بابرکت اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی عظمت والی ہے۔ ہمارے اسلاف رضی اللہ تعالیٰ عنہیم اس کی بہت تعظیم کرتے اور اس کے آنے سے قبل اس کے لیے تیاری کرتے تھے۔ پھر جب یہ رات آتی تو وہ جوش و جذبہ سے اس کا استقبال کرتے اور مستعدی کے ساتھ اس رات میں عبادت کیا کرتے تھے کیونکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہمارے اسلاف شعائر اللہ کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔" (المدخل ج ١ ص ٣٩٢)

مذکورہ بالا حوالوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس مقد رات مین مسجد مین جمع ہوکر عبادات میں مشغول رہانا اور اس رات شبِ بیداری کا اہتمام کرنا تابعین کرام کا طریقہ رہا ہے۔

شیخ عبد الحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں،

''اب جو شخص شعبان کی پندرہویں رات مین شبِ بیداری کرے تو یہ فعل احادیث کی مطابقت میں بالکل مستحب ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل بھی احادیث سے ثابت ہے کہ شبِ برأت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں کی دعائے مغفرت کے لیے قبرستان تشریف لے گئے تھے۔" (ماثبت من السنہ ص ٢٠٥)

آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت قبور کی ایک بڑی حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ اس رات موت یاد آتی ہے۔ اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔ شبِ برأت میں زیارتِ قبور کا واضح مقصد یہی ہے کہ اس مبارک شب میں ہم اپنی موت کو یاد کریں تاکہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے میں آسانی ہو۔ یہی شبِ بیداری کا اصل مقصد ہے۔

اس سلسلے میں حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کا ایمان افروز واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیں منقول ہے کہ

جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، شبِ برأت میں گھر سے باہر تشریف لائے تو آپ کا چہرہ یوں دکھائی دیتا تھا جس طرح کسی کوقبر میں دفن کرنے کے بعد باہر نکالا گیا ہو۔ آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا خدا کی قسم میری مثال ایسی ہے جیسے کسی کی کشتی سمند میں ٹوٹ چکی ہو اور وہ ڈوب رہا ہو اور بچنے کی کوئی امید نہہو۔ پوچھا گیا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کی ایسی حالت کیوں ہے؟ فرمایا میرے گناہ یقینی ہیں ۔ لیکن اپنی نیکیوں کے متعلق میں نہیں جانتا کہ وہ مجھ سے قبول کی جائیں گی یا پھر رد کردی جائیں گی۔ (غنیۃ الطالبین ص ٢٥٠)

اللہ اکبر نیک و متقی لوگوں کا یہ حال ہے جو ہر رات شبِ بیداری کرتے ہیں اور تمام دن اطاعتِ الہٰی میں گزارتے ہیں جب کہ اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے کم نصیب ہیں جو اس مقدس رات میں فکر آخرت اور عبادت و دعا میں مشغول ہونے کی بجائے مزید لہو و لعب میں مبتلا ہوجاتے ہیں آتش بازی پٹاخے اور دیگر ناجائز امور میں مبتلا ہوکر وی اس مبارک رات کا تقد س پامال کرتے ہیں ۔ حالانکہ آتش بازی اور پٹاخے نہ صرف ان لوگوں اور ان کے بچوں کی جان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ارد گرد کے لوگوں کی جان کے لیے بھی خطرتے کا باعث بنتے ہیں ۔ ایسے لوگ ''مال برباد اور گناہ لازم'' کا مصداق ہیں ۔

ہمیں چاہیے کہ ایسے گناہ کے کاموں سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور بچوں کو سمجھائیں کہ ایسے لغو کاموں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناراض ہوتے ہیں ۔ مجدد برحق اعلیٰ ھضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ۔ آتش بازی جس طرح شادیوں اور شب برأت میں رائج ہے بے شک حرام اور پورا جرم ہے کہ اس میں مال کا ضیاع ہے۔ قرآن مجید میں ایسے لوگوں کو شیطان کے بھائی فرمایا گیا۔ ارشاد ہوا،

''اور فضول نہ اڑا بے شک (مال) اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ''۔ (بنی اسرائیل)

شعبان کے روزے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے،

''جن لوگوں کی روحیں قبض کرنی ہوتی ہیں ان کے ناموں کی فہرست ماہِ شعبان مٰں ملک الموت کو دی جاتی ہے اس لیے مجھے یہ بات پسند ہے کہ میرا نام اس وقت فہرست میں لکھا جائے جب کہ میں روزے کی حالت میں ہوں''۔

یہ حدیث پہلے مذکورہ ہو چکی کہ مرنے والوں کے ناموں کی فہرست پندرہویں شعبان کی رات کو تیار کی جاتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ اگرچہ رات کے وقت روزہ نہیں ہوتا اس کے باوجود روزہ دار لکھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بوقت کتاب (شب) اللہ تعالیٰ روزی کی برکت کو جاری رکھتا ہے۔ (ماثبت من السنہ ١٩٢)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ،

''میں نے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہِ رمضان کے علاوہ ماہِ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے نہیں دیکھا''۔ (بخاری، مسلم، مشکوٰۃ جلد ١ ص ٤٤١)

ایک اور روایت میں فرمایا،

''نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چند دن چھوڑ کر پورے ماہِ شعبان کے روزے رکھتے تھے''۔ (ایضاً)

https://fbcdn-sphotos-a.akamaihd.net/hphotos-ak-snc6/261202_10150235552435334_672380333_7952881_4740075_n.jpg
 
--
کتاب: مبارک راتیں
تحریر: علامہ سید شاہ تراب الحق قادری


Re: Put Down Your Rights and No One Needs to Get Hurt!

The Tennessean

In Tennessee and across the nation, police and prosecutors are relying
more heavily on wiretaps.

They say listening in on suspects' cellphone calls is an effective way
to combat drug trafficking and gang activity, but defense attorneys
say the government should be careful not to go too far.

According to the newly published Wiretap Report by the Administrative
Office of the United States Courts, authorities across the nation
acquired more wiretap orders in 2010 than any prior year — 3,194 cases
— which is a 168 percent jump since 1997. Nashville, which accounted
for nearly every wiretap order in Tennessee during that same time
frame, has gone from zero wiretaps a decade ago to one every 11 days
in 2010. That includes both local and federal authorities.

"Wiretaps are the most effective way to infiltrate and disrupt
international drug conspiracies. That's just the reality of it," U.S.
Attorney Jerry Martin said. "It's a very effective tool, and while it
may be on the upswing, it's a tool that we use very carefully."

Martin said the increase can be attributed to an increasing reliance
by drug traffickers on cellphones, particularly pay-as-you-go,
disposable phones they try to use for only short periods of time to
avoid detection.

Wiretaps proved key in a major gang racketeering case last year
involving 32 suspects and an East Nashville anti-gang nonprofit
prosecutors say hosted organizational meetings for the Bloods gang.
Federal prosecutors say the group trafficked in guns and drugs and was
responsible for three murders and eight nonfatal shootings.

Potential for abuse concerns lawyers
Defense attorneys worry that some prosecutors could abuse their
authority.

"The government has so much power, and they can get a wiretap to try
to show that somebody is involved in drugs, but the defense can't
counter," said Nashville defense attorney Jennifer Thompson. "The
defense has no opportunity to get a wiretap on people to show that
they're not guilty."

Martin said that such complaints are offset by the rigorous standards
prosecutors have to meet to get a wiretap approved. First, an agency
must convince prosecutors that they couldn't get the information
without a wiretap, that there's probable cause that a crime has
occurred and that the tap itself is likely to prove fruitful. Then,
the request is forwarded to the U.S. Department of Justice, where it
is again reviewed. Finally, it must be approved by the chief federal
judge in the district in which it is requested.

He called a wiretap a "tool of last resort."

State authorities have even more restrictions on wiretaps, limiting
them largely to just drug and homicide cases.

Nashville attorney David Raybin said local prosecutors have been
judicious in using the tool.

On Jul 14, 9:48 am, MJ <micha...@america.net> wrote:
> Put Down Your Rights and No One Needs to Get Hurt!by Wendy McElroy, July 13, 2011
> Few activities are as dangerous as watching a cop too closely, as John Kurtz knows well. Kurtz is the founder of the Orlando, Florida, branch ofCopWatch, a network of activists in the United States and Canada who patrol the streets on foot or in a vehicle to monitor and document police activity in order to spotlight misconduct and brutality.
> Kurtz's recent arrest for "obstructing justice" and conviction for "resisting arrest without violence" spotlight a growing trend in law enforcement. Police are arresting peaceful people virtually at will based on vaguely worded laws that are an invitation to rampant abuse. Such laws have become a standard police intimidation tactic.
> Consider "obstruction of justice." The typical definition as it relates to police officers is "the interference with an officer who is discharging his duty." Depending on the state, obstruction can include providing a false name, the interception of police radio communication to avoid detection, eluding a police officer, and refusing to assist an officer or to comply with a command.
> In reality, obstruction charges have been laid for arguing with a policeman or asking him questions, gesturing in almost any manner, invoking the Constitution, refusing to produce I.D., and recording a police officer even when it is legal to do so.
> The penalties vary widely not merely from state to state but also on the type of obstruction being charged. Non-violent obstruction is usually a misdemeanor punished by a fine but some acts are deemed felonies, punishable with jail time. As the case of John Kurtz illustrates, however, both the bringing of charges and the ultimate punishment often depend not on the actual "offense" but upon the desire to pound authority into the non-subservient. Disrespecting authority is fast becoming the worst "crime" in society.The case of John Kurtz
> On January 1, 2011, Kurtz was in downtown Orlando when he observed police officer Adam Gruler arresting a man on a domestic-violence charge.The arrestinvolved "the use of tasers, a violent take-down and the pepper spraying of a man already subdued and in handcuffs." Kurtz announced himself, stood to one side, and began recording the incident. Florida law allows in-person recordings in public places where there is no expectation of privacy; it further allows the recording of police officers as long as it does not obstruct the enforcement of law. Nevertheless, Gruler demanded Kurtz cease recording. When Kurtz informed Gruler that he "knew his rights," the officer threw Kurtz to the ground and arrested him as well.
> Kurtz was charged with three offenses: obstruction of a law-enforcement officer; battery on a law-enforcement officer; and resisting arrest without violence. The latter charge can refer to any nonviolent "resistance" to arrest, from running the other way to asking, "What am I charged with?" Resisting arrest without violence is another increasingly popular intimidation tactic used by many police departments. Of the Orange County, Florida, police department that conducted the Kurtz arrest, local news channel WFTV reported as early as 2006,Defense attorney David Bigney says he rarely sees a case now where resisting isn't a charge. "All these people want is to know why, what's going on here, but the officer decides I'm just going to arrest you," said Bigney. And often it's the only charge. In more than 25-percent of the 4000-plus cases Eyewitness News tracked, resisting was the only charge. That begs the question: if there's no arrest for something else how could they be resisting arrest?Kurtz had an advantage, however; he taped the entire incident. But, somehow, during his subsequent processing at the police station, Kurtz's camera went missing and never showed up either in evidence or in his returned belongings. Fortunately, a Big Brother street camera captured the incident; it discredited the police account and agreed with several witnesses who claimed Gruler committed the only violence that occurred. The camera evidence was most fortunate because Kurtz faced a 6-year prison sentence for the three charges and, in the absence of hard evidence, the court tends to believe police officers. Gruler's initial report on the arrest stated that Kurtz was too close as he and another officer restrained the first man (obstruction) and that Kurtz pushed him (assault). With the street camera evidence, however, Gruler's initial account of the event changed significantly. But, as apress release noted, the street camera "effectively disproves all three versions of arresting officer Adam Gruler's story as to where, when and how the supposed battery took place."
> Thus, on June 30, a jury found Kurtz not guilty of battery on a law-enforcement officer but guilty of resisting arrest without violence. (The obstruction charge had been dropped.) The judge imposed the stiffest penalty possible upon the unrepentant Kurtz: 30 days in jail (less 7 days served), a one-year probation, and a 12-month restraining order to stay at least 100 feet from police officers engaged in duty. Typically, resisting arrest without violence receives a slap on the wrist; a sentence such as Kurtz's is almost unheard of. Moreover, Kurtz commented, "In the multiple plea deals I was offered, jail time was never mentioned, in fact my last plea offer didn't even include probation and this is when I was charged with a felony, as well as resisting arrest without violence."Punished for his activism
> The stiff sentence had been foreshadowed by the judge's attitude in court, which Kurtz an activist for jury nullificationdescribedas "statist bull-crap." For example, the judge refused to allow disciplinary reports or other evidence of Gruler's extensive history of police misconduct and brutality. In 2006, the Orlando Sentinel reported, "Adam Gruler is a hunter. That's one of the nicknames given inside the Orlando Police Department to the young, aggressive cops.... Their job: create a "no-tolerance zone" for crime of all kinds.... He also has become one of the department'stop Taser users…." Gruler has had dozens of complaints lodged against him for behavior similar to that captured in a YouTube of 2007 unlawful arrest by Gruler of another man who had beenlegally recorded him.
> The stiff sentence may have also been prompted by Kurtz's high-profile acts of local civil disobedience. For example, he is one of the videographers of the recent arrest of members of Food Not Bombs, an organization devoted to sharing food with the homeless. An Orlando ordinance forbids the feeding of homeless people within 2 miles of City Hall. Kurtz and others of Food Not Bombs maintain that the ordinance is an unconstitutional restraint of First Amendment rights. On June 6, the Huffington Post reported, "Over the past week, twelve members of food activist group Food Not Bombshave been arrestedin Orlando for giving free food to groups of homeless people in a downtown park." They have been charged with trespass and "intent to feed." Kurtz who was featured at the recent libertarian gathering PorcFest was instrumental in creating the viral YouTubes of Food Not Bombs arrests, which have embarrassed the police by showing themarrestingpeaceful "people who are simply trying to help their fellow man." The title of one YouTube video showing an arrest for feeding the hungry asked police officers, "Do You Really Support What Your Co-Workers Are Doing Here?"
> Currently, Kurtz is raising funds to appeal his conviction. The main reason he cites for the appeal is the 100-foot restriction on approaching police officers, which means "effectively ending my participation in Orlando Copwatch." He is attempting to involve the American Civil Liberties Union on constitutional grounds. A CopWatch press release explains,Kurtz sights [sic] that the prosecution during closing arguments and judge during sentencing, say that when Kurtz approached the scene with his camera and told the officers "calm down, I am filming you" that act by itself was interfering, obstructing or opposing a police officer, and thus, the form of resisting arrest without violence. Kurtz insists that this form of free speech is absolutely protected by the First Amendment of the United States Constitution.... This is specifically upheld by the US Supreme Court in case Houston vs. Hill, 1987, and Florida Supreme Court Case, Florida vs. Saunders, 1976, as well as other case law. Theserulingshave never been overturned.Private property no defense
> Time after time, when punitive arrests or punishments for obstruction or resisting arrest have been appealed, the appellant has won. And, yet, the police continue as though there were no higher authority than themselves. As a lawyer specialized in obstructing justice has stated,This broadly written law can be the subject of abuse by law enforcement. Even though the courts have made it clear that mere verbal criticism is not enough, police and municipal prosecutors still charge citizens with this offense for minor verbal acts. In cases of police brutality, this charge will often be filed in the hope that a citizen will take a quick plea,eliminatingany ability to get compensation later.In short, police routinely charge people with obstruction or resisting not merely to intimidate but also to give themselves negotiating leverage.
> The future of CopWatch may well be a challenging one because it does not matter if the recording is legally performed in a public place; the police are likely to arrest you. It doesn't ever matter if you are recording the police from your own property. On July 7, the InfoWars sitereported,In a video making a stir on You Tube, an Arkansas man looks on in horror as officers handcuff an innocuous looking woman, and then conduct a TSA-style search of her breasts and other body parts before releasing her. The cameraman filming police across the street from his garage yells "Nazis," continuing to warn the officers that they were violating the 4th Amendment.Their response? According to the Infowars site, three police officers enter his property and demand his papers. "They then begin to discuss what they're going to charge him with: 'disorderly conduct.' No, let's charge him with 'obstruction of justice.' The officers then decide to go with 'racial slur.' They then grab the camera away from the man and clap on the cuffs. The camera is then turned off."
> Whether you in a public street or on your own property, whether you are peaceful or not, the mere questioning of a police officer can get you arrested. They can charge you with "disorderly conduct" for standing alone in your own driveway. They can charge you with "resisting arrest" if you ask what the charges are. If you gesture, they can interpret that as the beginning of an attack and charge you with "battery on an officer." If you refuse to assist them in sexually frisking a neighbor, they can charge you with "obstruction of justice."
> Police discretion means a police state.http://www.fff.org/comment/com1107k.asp

--
Thanks for being part of "PoliticalForum" at Google Groups.
For options & help see http://groups.google.com/group/PoliticalForum

* Visit our other community at http://www.PoliticalForum.com/
* It's active and moderated. Register and vote in our polls.
* Read the latest breaking news, and more.