Sunday, November 7, 2010

**JP** FW: عافیہ کی وامعتصماہ Must Read

 

 

 

http://www.eeqaz.com/main/articles/10/20101007_aafia_wamutasimaah.htm

 

 

PDF Download

 

عافیہ کی

 

 

"وامعتصماہ"!

 

 

مگر "معتصم" ہے کہاں....؟!

 

عائشہ جاوید

 

 

محض ایک لڑکی جس کی جراُت نے دنیا کو حیران کر دیا اور جس کی بے بسی نے پتھر دلوں کو لرزا دیا.... ایک ایسا آئینہ ثابت ہوا جس میں ڈیڑھ ارب پر مشتمل پوری ایک امت نے اپنا آپ دیکھ لیا....!

خدایا! ایک لڑکی تن تنہا کیا اتنا بڑا کام بھی کر سکتی تھی؟

امت کی اِس "ایک لڑکی" کے ساتھ کیا ہوا اور کیا کچھ ہورہا ہے، اِس آئینے کے اندر جہاں امت نے اپنا اجڑا ہوا بے بس چہرہ بار بار دیکھا وہاں، نظرِ بد دور، اپنے بے تحاشا ملکوں، سلطنتوں، لشکروں، سپہ سالاروں اور طنطنہ بردار لیڈروں، "منتخب" نمائندوں اور سربراہوں، سب کی حقیقت دیکھ لی!

مانا کہ عوام کے پاس بظاہر ایسے کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے، مگر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے تو قیامت تک کسی مسئلہ کا حل نکلنے والا نہیں! اور ہاں ہماری اسلامی قیادتیں بھی تو تھیں جن کو ہم نے خلافت کی غیر موجودگی کے اِس درمیانی عرصہ میں امت کو لے کر چلنے کا مجاز مانا ہے!!! یہ منظر بھی کچھ بہت حوصلہ افزا نہیں کہ ہماری یہ قیادتیں امت کو "کہاں" لے کر جا رہی ہیں۔ آخر میں "نالے" اور "دعائیں" رہ جاتی ہیں.. اِس میں بھی خدا ہی جانے ہم میں سے کس کا کیا حال ہے!!!

کوئی ہے جو ہماری بات سن رہا ہے؟؟؟

زیر نظر مضمون میں امت کی اِس ہونہار بیٹی پر چلائے جانے والے "مقدمہ" کی کچھ تفصیل ہے۔ اس کی زندگی کے ابتدائی حالات کا کچھ تذکرہ ہے۔ اور سب سے بڑھ کر وہ دکھ جو اِس موضوع پر آپ اپنی زبان ہے۔ معلومات کے لئے بشمول دیگر مصادر، یوان ریڈلی (Yvonne Ridley) کے مضمون Betrayal of Dr. Afaia Siddiqui، علاوہ ازیں،Justice for Afia Coalition کی ویب سائٹ سے ایک مضمون اور عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی کی ایک آڈیو سے استفادہ کیا گیا ہے۔نیچے دیے گئے لنک سے ان مضامین اور آڈیو تک رسائی ہوسکتی ہے۔

http://www.eeqaz.com/link/201010m.htm

 

وہ 23 ستمبربروز جمعرات کی ایک ایمان افروز سہ پہر تھی۔ یقینا ہزاروں سجدے تڑپے ہونگے! لاکھوں دستِ دعا بلند ہوئے ہونگے!بلاشبہ اس روز بہت سوں کی گزشتہ رات آنکھوں میں کٹی ہوگی،عباد الرحمان رحیمیت کا دامن تھامے کسی معجزے کے منتظر ہونگے، بہت سے کان کسی غیبی نویدکی تاک میں لگے ہونگے!نہ ختم ہوتے نظر آنے والے اندھیروں میں امید کا ٹمٹماتا دیا بہت سے دلوں کی آس بنارہا ہو گا،معلوم نہیں کتنی آہیں ، کتنے نالے بادلوں کو چیرتے ہوئے فلک پر راہ پانے کو ترس رہے ہونگے! دلوں میں بہتے محبت فی اللہ کے زمزمے دن رات بحرِ دعا میں ڈھلتے رہے! پر میرے رب کی قضا غالب آگئی، قیامت آئی اور آ کر گزر بھی گئی۔ زمین شق ہوئی نہ آسمان پھٹا۔ شاید چشم ِ فلک کے آنسو بھی اب تھم چکے اس یقین پر کہ ظلم کو ایک دن مٹ کر ہی رہنا ہے!مشیتِ ایزدی کو شاید آتشِ نمرود میں بے خطر کود جانے والی عافیہ صدیقی سے عشق کے کچھ مزید امتحان مقصودتھے، آزمائش کی وہ شام کچھ مزید لمبی ہوتی نظر آتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عافیہ کے درِ شہوار بننے میں ابھی کچھ اور مراحل باقی ہیں!

ایک عجیب سی کیفیت ہے، جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا تلاطم انگیز طوفان، جو چین نہیں لینے دیتا!احساسات کو نام دینا چاہیں تو الفاظ کم پڑنے لگتے ہیں۔ایک ان کہی سی خاموشی ہے جو رگ و پے میں سرایت کرتی جاتی ہے۔آنسووؤں کی ایک جھڑی سی لگ جاتی ہے، درد کی ایک ٹیس سی اٹھتی ہے سینے میں مگر واللہ !یہ عافیہ سے ہمدردی جتانے کی خاطر نہیں کہ وہ تو 'چنے ہوئے لوگوں' میں سے ہے !نہ جانے یہ ندامت کے آنسو ہیں؟اپنی بے بسی کا ماتم ہے یا شایداپنی بے حسی کا نوحہ؟ شاید یہ سیلِ رواں ہمارے اوپر پڑی غفلت کی دبیز تہہ کو بہا کر لے جانے میں مددگار ثابت ہو؟ ہمیں اب عمل کی دنیا میں قدم رکھنا ہی ہو گا، اس سے پیشتر کہ ہماری مہلت ختم ہونے کو آ جائے!

 

٭٭٭٭٭

 

500 پرل سٹریٹ پر واقع کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھر ا ہوا تھا۔بہت سی نظریں اس بہادر خاتون کی ایک جھلک دیکھنے کو بےقرار تھیں جس نے امریکی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا، بے پناہ رش کے پیشِ نظر بہت سوں کو کمرۂ عدالت سے ملحق کمروں میں موجود پروجیکٹرز پر ہی اسکے دیدار پر اکتفا کرنا پڑا۔

مقدمے کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔عافیہ کی وکیل ڈان کارڈی نے عافیہ کی ذہنی حالت پر تبصرے سے اپنی جرح شروع کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 20 سال کے طویل و عریض تجرے رکھنے والے ماہرینِ نفسیات کے پینل نے متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ عافیہ صدیقی schizophreniaکے عارضہ میں عرصۂ دراز سے مبتلا ہے۔اور یہ مسئلہ نیا نہیں بلکہ اس دور سے چلا آرہا ہے جب عافیہ MIT میں زیرِ تعلیم تھی، اس دور میں اسکے تھیسس How Children Learn کا مطالعہ کرنے سے آپ تحریر میں موجود بے ربطگی کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتے ! مزید برآں جیل میں لکھی جانے والی بعض تحریروں سے اس شک کو مزید ہوا ملتی ہے کہ عافیہ ذہنی خلجان کا شکار ہے !وکیل ِ صفائی کے مطابق اسکی اس دماغی حالت میں کسی حد تک اسکی ناخوشگوار خانگی زندگی کا بھی دخل یقینا رہا ہو گا مگر یہ بات بہر نوع واضح ہو جاتی ہے کہ اس بیماری میں مبتلا انسان میں بے ربطگی کا عنصر کچھ اس انداز میں پایا جاتا ہے کہ وہ کم از کم اسطرح کی سوچی سمجھی پلاننگ کرنے کے قابل نہیں رہتا جیسے امریکی اداروں کے عافیہ پر عائد کردہ الزامات میں بیان کیا گیا ہے ۔اور عملی جہاد میں شمولیت جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا کہ اس سے کچھ زیادہ کی ہی متقاضی ہے!

عافیہ اپنے ذہنی توازن کی بابت کہی جانے والی باتوں کی تردید کرتی ہے۔اسکا کہنا ہے کہ اسے اپنے وکیل منتخب کرنے کا حق دیا ہی نہیں گیا۔ بلاشبہ اس پر ایسے ایسے ادوار آئے ہیں جب اسے اپنا وجود تک تحلیل ہوتا محسوس ہوا ہے مگر اس حقیقت سے فرار ممکن نہیں کہ اس میں ان حالات و واقعات کا بڑا ہاتھ ہے جن میں وہ ایک مدت محصور رہی ہے۔دیکھا جائے تو عافیہ کی جگہ کوئی بھی لڑکی ہوتی جس نے اذیت کے کٹہروں میں دن گزارے ہوتے، تو غزنی کے اس مقام پر جہاں اسے پایا گیا ، اسی تذبذب اور خوف و ہراس کا شکار ہوتی جس میں عافیہ کو دیکھا گیا، وکیل ِ استغاثہ اور جج مصر تھے کہ عافیہ کو افغان سپاہ کی حراست میں ہونے پر کوئی پریشانی نہ تھی ، بقول انکے نفرت کی دبی ہو ئی لہرکا آتشیں لاوا ابلا تو اس وقت جب اس نے امریکی فوجیوں کو اپنے قریب پایا،یہ وہ وقت تھا جب وہ اپنا آپا کھو بیٹھی اور بلا سوچے سمجھے اندھا دھند فائرنگ کر دی، وہ تو بھلا ہو امریکی فوجیوں کی 'گوریلا' ٹریننگ کا، جو اس 'خطرناک' صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے اور یوں عافیہ کی 'خونی سازش' دھری کی دھری رہ گئی!

عافیہ ان تمام الزامات سے متعدد باراعلانِ براءت کر چکی ہے !گرفتاری کے فوراً بعد پہلے تین ماہ ایف بی آئی نے اسکی ایک نہ سنی ۔ نہ تو اسے اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا گیا اور نہ ہی اسے کسی سے ملنے کی اجازت تھی۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اسے یہ معلوم نہ بن پڑتا تھا کہ اس سے سوالات کرنے والے محض بیج لگائے یونیفارم میں ملبوس بدمعاش تھے جنھیں معاملے کی سچائی جاننے سے کوئی سروکار نہ تھا یا حقیقتاً ایف بی آئی کے کارندے تھے،۔مایوس ہو کر اس نے بھی وقتی طور پر خاموشی اختیار کرنے میں عافیت جانی۔

مقدمے کے عینی شاہدین اعتراف کرتے ہیں کہ عافیہ کی گفتگو اتنی پر اثر اور دلوں کو گرما دینے والی تھی کہ وہ اسکی حکمت سے لبریز باتوں کو قلمبند کرنے سے بے نیاز ہو کر، دم سادھے، سنتے رہنے پر ہی قناعت کرتے رہے!

فیصلے کے دن جب عافیہ کو اپنی صفائی میں بولنے کا موقع دیا گیا تو قلتِ وقت کے پیشِ نظر وہ ایک لمحے کو تو سمجھ ہی نہیں پائی کہ ابتدا کہاں سے ہو اور انتہا کہاں پر! پنجرے میں قید پنچھی کو آزادفضاوؤں کی چند گھڑیاں نصیب ہونا ،یہ جانتے ہوئے کہ یہ لمحے بس لمحے ہی ہیں، بذاتِ خود شدید اذیت کا سبب ہوا کرتا ہے! وقت کی مہلت گنی چنی تھی ، تاہم آفرین ہے اس دخترِ قوم پر کہ جس نے اس مختصر وقت میں جذبات کی رو میں بہہ جانے کی بجائے بڑے حوصلے سے فی البدیہہ فصاحت و بلاغت سے سننے والوں کو مسحور کر دیا، پہریدار تک دنیا و ما فیہا سے لاتعلق ہو کر کان لگائے اس بہادر خاتون کی زبان سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ کو پوری دلجمعی کیساتھ سنتے نظر آرہے تھے ؛ ایمان کو جلا بخشنے والے اس ماحول کا صحیح اندازہ تو صرف انھی کو ہو گا جو وہاں بہ نفسِ نفیس موجود تھے۔حاضرین کہتے ہیں کہ متعدد بار سامعین عافیہ کی پرعزم وپر استقلا ل تقریر کے دوران خود پر قابو نہ رکھ سکے۔ کمرہ بیک وقت آہوں ، سسکیوں اور 'اللہ اکبر' کی صداوؤں سے گونجتا رہا۔ ایسا ہی تھا اسکے سوز میں چھلکنے والا اخلاص و ایمان کہ ادھیڑ عمر بزرگ تک کے خاموش نالے ضبط کے بندھن توڑ کر آنکھوں کے راستے چھلک پڑے!

ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی!

ہمارے حکمران شاید احمقوں کی جنت کے باسی ہونے کی بنا پر امریکی عدالت سے انصاف کی آس لگائے بیٹھے تھے مگر موقع پر موجودوکیل صفائی ڈان کارڈی کے لب و لہجے کی شکستگی تک کو سامعین محسوس کیے بنا نہ رہ سکے جب اس نے جج رچرڈ برمین سے رہائی کی بجائے سزا کی مدت کم سے کم رکھنے پر بحث کا آغاز کیا۔ کارڈی کا کہنا تھا کہ جیل بہرحال ایک نفسیاتی مریضہ کی بحالی و صحت کیلئے موزوں جگہ نہیں، اور دماغی توازن قائم نہ رکھ سکنے کی بنا پر عافیہ اب کسی طور بھی خطرہ نہیں رہی، محض تحفظات کی بنا پر دنیا کا کوئی قانون محبوس رکھنے کی اجازت نہیں دیتا! ان حالات میں عمر قید تو سزائے موت کے مترادف ہو گا!مگراپنی ضد پر مصرملعون جج کا ماننا یہی تھا کہ چونکہ عافیہ نے ایک بار جیل کے پہریدار پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی اور چونکہ وہ ایسے ذہنی عارضوں میں مبتلا ہے جنکا کوئی علاج آج تک دریافت نہیں ہو سکا ، اسلیے عافیہ کا عامۃ الناس میں رہتے ہوئے انکے لیے باعثِ خطرہ نہ ہونا ایک معمہ بنا رہے گا اور اپنے علاج معالجہ کے حوالے سے اسکا عدم تعاون ، Texas Facitility Federal Medical Centre, Carswell کی طبی سہولیات سے تشفی نہ ہونے کے باعث وہاں رہنے سے انکار ،فی نفسہ معاملات کو پیچیدہ تر بنا دیتا ہے۔اور برمین اوروکیل استغاثہ کے مطابق عوامی تحفظ کی فراہمی کیونکہ ریاست کا اولین فرض ہے اسلیے وہ عافیہ کو آزاد چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے! اور رہی یہ دلیل کہ جن مراحل سے عافیہ گزری ہے ان میں کسی حد تک ذہنی انتشار کا شکار ہونا طبعی امر ہے تو جج کے مطابق 2008 سے قبل عافیہ کی غیابت اور تشدد کے ٹھوس ثبوت موجود ہی نہیں!بالفاظِ دیگر ڈاکٹر عافیہ کے اکثر بیانات مشکوک ہی نہیں بلکہ جھوٹ پر مبنی ہیں!

شدید تناوؤبھرے اس ماحول میں حوا کی یہ پاکدامن بیٹی زیرِ لب مسکرا کر رہ گئی جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ جج سے مزید کسی اہم امر پر گفت و شنید کی خواہاں ہے! جنگلی بھیڑیوں کے آگے رحم کی بھیک؟نہیں! یہ اہلِ ایمان کا خاصہ ہی نہیں!شایدعافیہ اس درجے کو پہنچ چکی ہے جہاںوہ ان رسمی کارروائیوں سے بے نیاز ہے۔ جہاں دستورِ زباں بندی قانون ہو اور الفاظ کی وقعت ختم کر دی جائے ،وہاں اہل اللہ کی فریاد فرعون نما انسانوں کی بجائے رب العرش سے براہِ راست ہو جایا کرتی ہے ۔جہاں سائل و مسٔول کے مابین حجاب اٹھ جاتے ہیں، جہاں آہیں عرش کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں ، غضبِ خداوندی جوش میں آتا ہے اور ظالموں کی رسی مزید دراز کر دی جاتی ہے کہ عذاب در عذاب کا سلسلہ طوالت پکڑتا جائے۔

'ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے، ان میں سے کوئی اپنی نذرپوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی'﴿33:23﴾

اس نڈر خاتون نے بڑے سکون سے جج سے کہا،'میرا فیصلہ تمھاری عدالت سے نہیں ، عرش سے صادر ہو گا، میں اپنے رب کی رضا پر راضی ہوں اور اسی کو میں نے اپنا کارساز ٹھہرایا ہے۔الحمدللہ میرا دل مطمئن ہے اورطمانیت و توکل کی اس لازوال نعمت کو تم چاہ کر بھی میرے وجود سے الگ نہیں کر سکتے!' عافیہ نے کمرۂ عدالت میں موجود اپنے لاتعداد خیرخواہوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنا وقت اور وسائل اسکی ذات پر ضائع کرنے سے گریزکریں کہ بظاہر اسوقت فرعونیت کے ٹھیکیداروں نے خود کو اسکا کاتبِ تقدیر سمجھ رکھا ہے،مگر وہ متاعِ جاں اس عزیز وجبار کی عدالتِ عالیہ کے سپرد کر چکی جہاں غرضِ عقبیٰ رکھنے والوں کو سبز پرندوں کی روحوں میں اسیری کی نوید سنائی جاتی ہے، وہ نوید کہ جس کو پانے کیلئے بندۂ مومن اپنا سب کچھ ہنسی خوشی وار دینے کو سب سے بڑی سعادت سمجھتا ہے!یہ قابلِ رشک سکینت اور روحانیت بھی کسی کسی کا نصیب ہوا ہے!

ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں!

جس وقت 'فاضل'جج بے بنیاد الزامات اور بے سر و پا حوالہ جات دیکر فیصلہ سنا رہا تھا تو عافیہ کے لبوں پر سورہ الحجرات کی آیات رواں تھیں:

'اے لوگو جو ایمان لا ئے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو'﴿ 49:6﴾

اس نے جج کوخبردار کیا کہ اللہ کے نبی اپنے بدترین دشمنوں کیخلاف فیصلہ سناتے ہوئے بھی جھوٹی گواہیوں اورناانصافی سے اجتناب برتتے تھے۔اسے اپنے پیشے کے تقدس کا پاس کرتے ہوئے ہی سہی مگر فیصلے کو حقائق کی روشنی میں مرتب کرنا چاہیے نہ کہ مذہبی تعصب اور بغض وعناد کی بنا پر! مکر و شیطینت کے اِس پیکر کی بد بختی دیکھئے کہ ایک معصوم کو انصاف دلانے کا آخری موقع بھی رائیگاں کر گیا!

اچھا انتظار کرو اور ہم بھی انتظار کرتے ہیں!' ﴿ 10:20﴾

'وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے!' ﴿8:30﴾

عافیہ کے نفسیاتی معالج بسا اوقات خود اس سے متجسس ہو کر سوال کرتے ہیں کہ آخر کیا رازہے جو اسے اتنی کڑی آزمائش کی آندھیوں میں بھی ڈگمگانے سے بچائے رکھتاہے؟یہ نازک سی لڑکی آخر کس مٹی کی بنی ہے کہ اتنا سب سہہ کر بھی اسکے پائے استقلال میں لغزش نہیں آتی؟! یہ فضل ہے بےشک میرے رب کا، جو مقامِ عبدیت کی معراج پا لینے والوں کے حصے میں ہی آتا ہے! جو رکیں تو کوہِ گراں اور جو چلیں تو جاں سے گزر جائیں!

دورانِ قید اس نے زیادہ خطوط نہیں لکھے۔ ایک مرتبہ اس نے اپنے بھائی کے نام ایک رقعہ لکھا جو واپس آگیا،ایک مرتبہ ٹیکساس امن سوسائٹی کی جانب سے اسے عراق جنگ کیخلاف پرامن احتجاج کرنے والے جوانواں کی ایک تحریر وصول ہوئی، کیونکہ وہ خود اسی طرز پر جدوجہد کی حامی ہے لہذا اس نے اظہارِ تشکرو حوصلہ افزائی کے طور پر جوابی رسالہ لکھا مگر سیکرٹری کی طرف سے غلط ایڈریس دیے جا نے پر وہ واپس کر دیا گیا، اسکے بعد سے وہ صرف اپنے نام آنے والے خطوط وصول کرتی ہے ۔

عافیہ کا کہنا ہے کہMIT سے اسکا تعلق خاصا پرانا رہا ہے، بلکہ وہ محسوس کرتی ہے کہ عدالتی کارروائی کے اس سارے وقت میں بھی وہ 'MIT' یعنی ' Manhattan Institute of Theatre Arts'میں ہی رہی ہے!

 

٭٭٭٭٭

 

چھیاسی سال کی سزا کچھ خاص باعثِ تعجب تو نہیں!نوشتۂ دیوار ہم سے پنہاں ہی کب تھا؟ عقل دنگ ہے تو اسلیے نہیں کہ گراوؤنڈ زیرو سے کچھ ہی فاصلے پر واقع مین ہیٹن کے کمرۂ عدالت میں عافیہ صدیقی کو پانچ مختلف مقدمات میں ملوث ہونے پر فرد ِ جرم عائد کر دی گئی، حیرت کا سبب اتمامِ حجت کے واسطے جاری کیے گئے ہمار ے 'غیرتمند 'سیاستدانوں اور حکومتی عہدیداروں کے وہ مذمتی بیان ہیں جو اس عدالتی فیصلے کے بعد منظرنامے پر رونما ہوئے!خاموش تماشائی کی حیثیت سے اپنی دھن میں مست اس ٹولے کے کان پر دوران ِ مقدمہ تو جوں تک نہ رینگی تھی! شاید وہ اپنی 'سادہ لوحی' میں اپنے امریکی آقاوؤں سے انصاف کی آس لگائے بیٹھے تھے ؟ آہ یا رب!جہالت کہیں اسے یا حدِجہالت؟ذلت کا نام دیں یا ضلالت کہہ کر انکی بد نصیبی پر ماتم کریں؟

بیت ِ عتیق کے رب کو چھوڑ کر بیتِ ابیض کے تلوے چاٹنے والے ، وہاں کے فرعونوں کی خواہشات کے آگے سجدہ ریز ہونے والے .. اس قوم کے معماروں کو سکوں کی کھنکھناتی چھنک کے عوض یرغمال بنانے والے.. اور اسکی بیٹیوںکی سودابازی کرنے والے غیرت سے محروم اور ذلت سے محکوم حکمرانوں نے.. بردہ فروشی کا تمغہ سجائے، فخریہ انداز میں، علی الاعلان دختر فروشی کا دھندا کرتے ہوئے، اسکے ذریعے قومی خزانے کوڈالروں کے عطیہ دلوانے کا سہرا اپنے سر لیا! یہ پھٹکار بھی کسی کسی کے حصے میں ہی آتی ہے! ایک امریکی سینیٹر نے پھبتی کستے ہوئے شاید ایسے ہی 'سپوتوں' کے بارے میں کہا تھا کہ پاکستانی تو چند ڈالر کے عوض اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں!

ان ھم الا کالاؤنعام بل ھم اضل!

38 سالہ ہماری اس بہن ،تین کم سن بچوں کی ماں عافیہ صدیقی کی دل دہلا دینے والی داستان، بیتے ہوئے ساڑھے سات سالوں پر محیط ہے۔ کوئی صاحبِ نظر اس حقیقت سے انکاری نہیں ہو سکتا کہ ابتدا سے لیکر اب تک انسانیت کے استہزاءاور انصاف کی عدم دستیابی کے سوا اس پورے قصے میں اور کچھ نظر نہیں آتا!

 

٭٭٭٭٭

 

چلئے آپ کو اس کی ذاتی زندگی کے کچھ گوشے بھی دکھاتے ہیں....

تین بہن بھائیوں کے ہنستے بستے کنبے میں عافیہ کا تیسرا نمبر تھا ۔ سب سے چھوٹی ہونے کے باعث سبھی کی لاڈلی تھی۔والد مرحوم پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے اور والدہ سرگرم سماجی کارکن۔بڑے بھائی محمد آرکیٹیکٹ ہیں اور ان سے چھوٹی بہن فوزیہ ہاروڑد سے فارغ التحصیل نیورولوجسٹ ہیں۔ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات کے مصداق عافیہ بچپن ہی سے خداداد ذہانت کی مالک تھی۔شروع سے ہی فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن لینا اسکا خاصہ تھا اور یہ صرف تعلیمی میدان تک ہی محدود نہ تھا بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں خصوصا تقریری اور تحریری مقابلوں میں بھی کوئی اسکا ثانی نہ تھا۔شاندار تعلیمی ریکارڈ اور انٹر میں امتیازی کامیابی کے باعث جب اعلی تعلیم کیلئے امریکہ کی مانی ہوئی MIT یونیورسٹی سے فل اسکالرشپ کی آفر ہوئی تو والدین نے اسکے روشن تعلیمی مستقبل کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ سوچ کر رضامندی ظاہر کی کہ بڑا بھائی بھی وہاں موجود ہے تو تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پائیں گے۔وہاں جا کر بھی اس نے اپنا لوہا منوایا اور بےشمار ایوارڈ، اعزازات اور آنرز اسکے حصے میں آئے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے مطابق عافیہ نہ نیوروسرجن تھی نہ نیورو فزکسٹ بلکہ انڈرگریجویشن میں اسکے مضامین Basic Sciences & Educationتھے۔اور پھر ماسٹرز اور پی ایچ ڈی Cognitive Behavior & Educationمیں کی۔ اسکے تھیسس کا عنوان تھا Learning by Imitation ۔وہ کہتی تھی کہ پاکستان کے مسائل کا حل نظامِ تعلیم کی اصلاح میں مضمر ہے اور اس نے ایک 10 سالہ نظامِ تعلیم بھی اس مقصد کے تحت مرتب کیا ۔جس میں اسلامی تعلیمات کو ہر ہر مضمون سے مربوط کرنے کا آئیڈیا پیش کیا گیا نہ کہ اسلامیات کو نصابی کتابوں تک محدود رکھنے کی عشروں پرانی ریت!اسکا خواب تھا کہ ملک کے تعلیمی اداروں سے قرآن کا عملی فہم رکھنے والے حفاظ نکلیں، جو دنیا کے سامنے دینی و دنیاوی علم کی قابل ِ رشک روشن مثال بن کر سامنے آئیں! اسکے مجوزہ نصاب کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ اسکے افکار اور اسکی بصیرت سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہے! یہاں ہم یہ وضاحت کرتے چلیں کہ ڈاکٹر فوزیہ کے بیان کے مطابق امریکی شہریت تو درکنار عافیہ نے گرین کارڈ تک نہیں لیا تھا کہ وہ اپنی شناخت بطورمسلمان کروانے میں ہی فخر محسوس کرتی تھی!

بچپن میں گڑیوں سے کھیلنا اسکا من پسند مشغلہ تھا اور جب وہ کچھ بڑی ہوئی تو یہ عادت چھوٹے بچوں سے محبت کی صورت اختیار کر گئی۔اس نے خصوصاً ذہنی معذور بچوں پر بہت کام کیا۔بزرگوں کا بیحد احترام کرنے والی یہ لڑکی آدابِ فرزندی میں اپنی مثال آپ تھی۔فارغ اوقات میں وہ اولڈ پرسنز ہوم کی خواتین کی خدمت گزاری کرتی، انکے بال بناتی،ذاتی ضروریات کی شاپنگ وغیرہ کرتی۔ڈاکٹر فوزیہ کہتی ہیں کہ میں اس سے بعض اوقات کہتی کہ تم نے تو بالکل تھینک لیس جاب کا بیڑا اپنے سر اٹھا رکھا ہے۔ نہ وہ بچے کسی کو پہچان سکتے ہیں، نہ کسی کی پذیرائی کر سکتے ہیں۔اور نہ ہی وہ بے حس اولاد کے ہاتھوں دکھی خواتین کبھی کسی کا احسان مانتی ہیں بلکہ الٹا برا بھلاہی کہتی ہیں تو وہ جواباً کہتی کہ جو شکریہ ادا کرتے ہیں انکا تو بہت لوگ کرتے ہیں، کسی کو ان کا بھی تو کرنا چاہیئے جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔آخر اللہ سے براہِ راست اجر طلب کر لینے میں کیا حرج ہے؟!

قرآن کریم سے عشق تو اسے بچپن ہی سے تھا۔یہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اس نے وہاں کی مادہ پرست زندگی کی دوڑ میں مبتلا اپنی کلاس فیلوز کو سکون کی تلاش میں MIT سے کچھ فاصلے پر واقع دریائے چارلس کے کنارے بنائی گئی بارز پر مشتمل ایک پب ہال کی طرف رجوع کرتے دیکھا۔ اسکے باہر ایک تختی آویزاں تھی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا 'Gateway to hell'۔عافیہ ششدر رہ جاتی کہ یہ کیسے پڑھے لکھے جہلاءتھے جو جانتے بوجھتے ہوئے ان مئے خانوں کو جنھیں یہ دخول ِجہنم کازینہ مانتے تھے مگر پھر بھی بربادی کے اس گڑھے کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ایسے میں اسے اللہ کے کلام سے عجیب ساسکون ملتا اور یہیں سے اس نے اس پاک کلام کو اپنے سینے میں اتارنے کی ٹھانی۔ MITکے مشغول شب و روز میں عافیہ نے بھرپور لگن سے تحفیظ القرآن کا آغاز کیا اور اسکا انداز اس میں بھی کچھ مختلف تھا! ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کہتی ہیں کہ عافیہ نے صرف عربی متن حفظ کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ ترجمہ تفسیر سمیت پورے شعور سے اس مقدس کتاب کو اپنے اندر سمو لیا۔اس سے جب کسی واقعہ کی بابت پوچھا جاتا تو وہ باقاعدہ قرآنی آیات کے حوالہ جات دےکر بات کرتی تھی۔اسکی روم میٹس اس سے پوچھتیں کہ وہ اتنی مطمئن کیسے رہ لیتی ہے جبکہ ان لوگوں کیلئے پاپ میوزک اور ڈسکو کے بغیر ڈپریشن سے چھٹکارا پانے کا تصور ہی محا ل ہے! تو وہ اپنے کیسٹ پلیر کے ائیر فونز انکی طرف بڑھا دیتی کہ تم بھی سنو اس مقدس کلام کو جس سے مجھے روحانی سکون ملتا ہے!

یونیورسٹی میں ہونے والی تقریبات میں جہاں طلباءو طالبات کے اسٹالز لگے ہوتے ، وہاں عافیہ کا اسٹال سب سے منفرد نظر آتا۔' Free Encyclopedia to your Life' کا بورڈ لگا دیکھ کر بہت سے لوگ متجسس ہو کر آتے تو وہاں پر قرآن کریم کے نسخے اور پکتھال کا ترجمہ پاتے جو اس نے اپنی پاکٹ منی کی رقم سے جمع کیے ہوتے تھے۔عافیہ سے جب بھی کہا گیا کہ اسکے علاوہ کچھ لٹریچر وغیرہ بھی رکھ لیا کرو تو وہ یہی کہتی کہ محمد کوئی لمبی چوڑی تقریریں نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انکی گفتگو کا محور اسی کتاب کی تلاوت اور اسکی آیات سے اخذ کردہ دلائل تھے جن کی بنیاد پر ایک پورے اسلامی معاشرے کی اٹھان رکھی گئی تھی۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 6 ماہ کیلئے پاکستان آئی پھر واپس امریکہ چلی گئی۔اس اثناءمیں اسکے والد کا انتقال ہو گیا۔وہ وطن واپس لوٹ آئی۔والدہ کی عدت پوری ہوئی تو اس نے اسلام آباد کی طرف رختِ سفر باندھا ۔یہ مارچ 2003 کا واقعہ ہے۔ خفیہ اداروں اور امریکہ کی ملی بھگت کے نتیجے میں عافیہ کو ساڑھے پانچ سالہ احمد،تین سالہ مریم اور شیرخوار سلیمان سمیت کراچی ائیرپورٹ کے راستے میں اغوا کر لیا گیا۔عافیہ کی ماں عصمت صدیقی گھر میں اکیلی تھیں اور بہن بھائی امریکہ میں مقیم تھے۔اس واقعہ کے تقریبا ایک گھنٹہ بعد دروازے پر دستک ہوئی اور کچھ افراد گھر میں داخل ہوئے۔عافیہ کی والدہ کو دھمکی دی گئی کہ اگر اس بارے میں کسی سے ذکر کیا تو چار لاشیں تمہاری دہلیز پر پہنچا دی جائیں گی۔بوڑھی ماں پر سکتہ طاری ہو گیا اور وہ بےہوش ہو گئیں۔آس پڑوس کے لوگ جمع ہوئے اور باہمی مشورے سے طے پایا کہ 'حکومتی سطح' پر رابطہ کر کے دیکھتے ہیں۔چیرمین سینیٹ میاں محمد سومرو کو اپروچ کیا گیااور انہوں نے اسی وقت آئی جی اسد اشرف ملک کو فون کیا۔آئی جی صاحب نے عصمت صدیقی صاحبہ سے فون پر رابطہ کر کے انہیں تسلی دی کہ بسا اوقات ایسی وارداتیں تاوان کے حصول کیلئے ہوتی ہیں لہذا آپ خاموشی اختیار کریں اور ہمیں اپنی کارروائی کرنے دیں۔یہ سب کچھ دس منٹ کے اندر ہوا۔ماں نے اس ڈر سے کہ کہیں فون کالز ٹیپ نہ ہوتی ہوں، امریکہ فون کر کے عافیہ کے بہن بھائی کو بھی اطلاع نہیں دی اور قریباً دو ہفتے اس اذیت میں تنہا گزارے۔

ادھرامریکہ میں ڈاکٹر فوزیہ ایک روز، ٹی وی پر MSNBCچینل دیکھ رہی تھیں کہ بریکنگ نیوز آئی 'عافیہ صدیقی کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ہے'۔انہوں نے فوراً والدہ کو فون کیا اور پوچھا امی عافیہ کہاں ہے؟ خوفزدہ ماں نے جلدی سے کہا، فون پر نام نہ لو اسکا! وہ کہنے لگیں، امی کیا ہو گیا، ٹی وی پر دیکھیں تو سہی کیا خبر آرہی ہے۔دکھی ماں کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔سیاستدانوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے قطعی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا امریکہ سے پتا کریں ہم کیا کہہ سکتے ہیں؟!عصمت صدیقی نے آوؤ دیکھا نہ تاوؤ، فوراً امریکہ پہنچ گئیں۔بہن بھائی نے وکیل کیے، واشنگٹن میں مقدمہ دائر کیا گیا۔وہاں ان کیمرہ مقدمہ میں ایف بی آئی کے مائیکل ییٹر نے حلفیہ بیان میں کہا کہ ہم آپکو یقین دلاتے ہیں عافیہ بالکل محفوظ ہے اور اس نے کوئی جرم نہیں کیا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اسکے پاس اسکے سابقہ شوہر کے بارے میں کچھ معلومات ہیں جس کی وجہ سے اسکی جان کو خطرہ ہے اور اسی لیے ہم نے اسے روپوش کر رکھا ہے۔پھر ایک اذیت ناک خاموشی کا نہ ختم ہونے والا دور شروع ہوا۔گھر والوں نے بیشمار خطوط، ای میلز لکھے مگر سیاسی حلقے 'صم بکم عمی' بنے رہے۔امریکہ بہادر کے آگے نمبر بنانے کی دوڑ میں ایک دوجے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرتے رہے اورطفل تسلیوں سے عافیہ کے خاندان کو بہلاتے پھسلاتے رہے !

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہ تھا بلکہ افراد کے لاپتہ ہونے کایہ بھیانک سلسلہ ان دنوں بامِ عروج پر تھا! بہت سوں کا مقدر گوانتنامو کا بدنامِ زمانہ عقوبت خانہ ٹھہرا ، عافیہ کے نصیب میں بگرام ایر بیس کے زنداں کی قیدِ تنہائی آئی۔پاکستانی نژادبرطانوی شہری معظم بیگ نے رہائی پانے کے بعد Enemy Combatantکے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں قیدی نمبر 650 کے نام سے پہچانی جانے والی عافیہ کی دردناک چیخیں ، اسکی روح فرساآہ و زاری کا تذکرہ کیا جو وہاں موجود قیدیوں کیلئے باعثِ تشویش بنی رہی؛ وہ جو چاہ کر بھی اپنی مظلوم بہن کی چارہ گری کرنے سے قاصر تھے؛اس بے بسی کی انتہا شاید انہیں عمر بھر بے چین رکھے گی ، جنکے لیے خود یہ بپتا سہناتو آسان تھا مگردرندوں میں گھری عفت مآب بہن کی مدد کو نہ پہنچ سکنے کی تکلیف انہیں کسقدر تڑپاتی ہو گی؟آوارہ قہقہوں کے نرغے میں پھنسی مظلوم صداوؤں پر لبیک نہ کہہ سکنے کا دکھ کسی بھی صاحبِ دل کیلئے کو ئی معمولی دکھ تو نہیں ! اس صدمے پر تو شاید تاحیات صبر آتے نہ آسکے گا!یہ زخم وقت کے پھاہوں سے بھی مندمل ہونے والے نہیں!

امریکہ میں مقدمے کی کارروائی سے مایوس ڈاکٹر فوزیہ صدیقی 2005 میں پاکستان آ گئیں اور پولیس اسٹیشنوں پر دھکے کھاتی رہیں مگر عافیہ کو معلوم نہیں زمین کھا گئی تھی یا آسمان نگل گیا تھا!کہیں سے کچھ پتا نہ چلا۔معظم بیگ کے بیان کے بعد انہوں نے ریڈکراس اور دیگر ہیومن رائٹس کی تنظیموں سے رابطہ کیا کہ وہ تمام اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرنے کو تیار ہیں مگر خدارا یہ پتا لگایا جائے کہ کیا قیدی نمبر 650 واقعی عافیہ صدیقی ہے؟ اور اگر نہیں تو پھر کون ہے کیونکہ کسی بھی عورت کے ساتھ یہ سلوک زیب نہیں دیتا!ان تنظیموں کی جانب سے جواب آیا کہ انہیں تفصیلی دورے کی اجازت نہیں دی گئی مگر یہ کہ وہاں کے حکام کے مطابق وہ مرد قیدیوں کو ذہنی اذیت دینے کیلئے ٹیپ چلاتے ہیں اور بگرام ایر بیس پر عورتیں اور بچے موجود نہیں۔فوزیہ صدیقی اس پر خاموش ہو گئیں مگر انکا دل بیقرار ہی رہا۔ اس دوران وکلاءنے کہا کہ اتنی طویل مدت تک لاپتہ رہنے کے بعد عافیہ اور بچوں کا زندہ پایا جانا تو محال ہے، اسلئے ڈیڈ باڈی کیلئے مقدمہ فائل کر دیں۔مرتے کیا نہ کرتے ، بہن بھائی دل پر پتھر رکھ کر یہ کرنے کو بھی تیار ہو گئے کہ اگر زندہ ہے تو ہمیں ملایا جائے ورنہ لاش ہمارے حوالے کی جائے تاکہ روز روز زندہ درگور ہونے کا سلسلہ تو ختم ہو!جج نے سماعت سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ والدہ زندہ ہیں۔اس طلب پر انکے دستخط لازمی ہیں مگر عصمت صدیقی یہ ماننے کو تیار نہ تھیں کہ انکی عافیہ کا اب وجود نہیں رہا! بہرحال کسی طریقے سے کاغذات دوبارہ جمع کروادیے گئے۔

 

٭٭٭٭٭

 

ادھر اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ طالبان کی قید سے آزاد کردہ برطانوی صحافی نے انکے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا پھر'پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے'! دیگر قیدیوں کی زبانی یہ دلخراش داستان سننے کے بعد یوون رڈلی نے معاملے کی گہرائی جاننے کی ٹھانی اور ہنگامی بنیادوں پر اس مشن پر کام شروع کر کے امن کے ٹھیکیدارامریکہ کی بزدلانہ کرتوت کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کر کے رکھ دیا! ایسے میں ایف بی آئی نے حواس باختہ ہو کر یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ بیانات جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا ، پہلے تو وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ عافیہ انکے قبضے میں ہے مگر بعد میں انہوں نے اسکے بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا؛ اس بات کو کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ عافیہ کوخطرناک ترین اشتہاری ملزمہ قرار دیکر مطلوب افراد کی لسٹ میں شامل کر دیا گیا اور اسکے خلاف الزامات کی بھرمار پر مبنی ایک فہرست جاری کر دی گئی۔

قدرت اپنے بندوں کو تنہا کبھی نہیں چھوڑتی، ایف بی آئی کا عافیہ کو یکدم منظرنامے پر لانے کا منصوبہ اسوقت مٹی میں مل گیا جب اسکے خاندان نے ایلین وائٹ فیلڈنامی بو سٹن کی ایک وکیل کی خدمات حاصل کر لیں، فرض شناسی کے جذبے سے موجزن اس خاتون نے دن رات ایک کر کے تحقیقات مکمل کرتے ہوئے ایف بی آئے اور سی آئی اے کے فرسودہ اور لغوالزامات کا کچا چٹھا کھو ل کر رکھ دیا، یہی وجہ ہے کہ عافیہ پر دہشت گردی کا کوئی ٹھوس الزام نہیں لگایا جا سکا۔ بدفطرتی سے مجبور امریکی اداروں نے پینترا بدل کر وار کرنے کی ٹھانی اور دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ دراصل عافیہ مفرور تھی اور افغان جہاد میں شامل ہو گئی تھی! بدحواسی کے عالم میں اور کچھ نہ سوجھا تو اپنی بات میں وزن ڈالنے کی خاطر قوم کی اس دھان پان سی بیٹی کو پاکستانی گیٹ اپ میں ملبوس کروا کر ایک بیگ تھما کر،جس میں دھماکہ خیز مواد، بم بنانے کی تراکیب اور نیویارک کے کچھ اہم مقامات بشمول ایمپائر سٹیٹ بلدنگ کے نقشہ جات تھے ، غزنی کے گورنر ہاوؤس پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا۔اسے کہا گیا کہ اب وہ آزاد ہے اور گورنرِ غزنی بذریعہ ٹرین اسکے باحفاظت پاکستان پہنچنے کا بند و بست کر دے گا۔ایک بچے کو اسکے ہمراہ روانہ کر دیا گیا اور اسے بتایا گیا کہ یہی اسکا بیٹا احمد ہے۔جگر گوشے کو ایک طویل مدت بعد اپنے سامنے پا کر عافیہ جیسے نہال سی ہو گئی اور فرطِ محبت سے اسے گلے لگا لیا۔بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہ درحقیقت کوئی اور بچہ تھا!

دونوں ما ں بیٹا منزلِ مقصود پر پہنچے ہی تھے کہ مسجد کے میناروں سے 'حی علی الصلاۃ ' کی صدا بلند ہوئی۔عافیہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ایک مدت سے اسکے کان اذان سننے کو ترسے ہوئے تھے۔اسکے قدم خود بخود اسی سمت اٹھتے چلے گئے۔ادھر پہنچ کر وہ یکدم بیہوش ہو گئی۔ادھر گورنر ہاوؤس فون کر کے مخبری کی گئی کہ ایک خطرناک خودکش بمبار پاکستانی عورت کے بھیس میں آرہا ہے جو پورے غزنی کو اڑانے کی نیت سے شہر میں داخل ہوا ہے، اس پر نظر رکھی جائے اور جیسے ہی وہ نظر آئے اسے گولیوں سے بھون دیا جائے ! مسجد کے پاس ایک بیہوش خاتون کو دیکھ کر لوگ اکٹھے ہوئے تو پاس ہی واقع گورنر ہاوؤس کی نفری بھی پہنچ گئی مگر ایک نہتی لاغر عورت کو دیکھ کر وہ شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ منظر مخبری کے عین برعکس تھا! یہ حقیقت بعد میں کھلی کہ اسے بگرام سے نشہ دے کر روانہ کیا گیا تھا تاکہ وہ بھاگ نہ سکے اور گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہو جائے اور پھر اسکی لاش لواحقین کے حوالے کر کے قصہ ہمیشہ کیلئے تمام کر دیا جائے مگر جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے! 'اللہ اکبر' کی صداوؤں نے اسے اس گھناؤنی سازش سے بچا لیا!ان بزدلوں کا خیال تھا کہ ایک اجنبی عورت کا تن ِ تنہا افغانستان میں ایسے مقام پر پایا جانامقامی پولیس کیلئے کسی اچنبھے سے کم نہ ہو گا اور سیکورٹی رسک کے مدِ نظر اسے موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا مگر قسمت نے ایک بار پھر امریکیوں سے بغاوت کی۔

گورنر ہاوؤس میں عافیہ کو ہوش میں لایا گیا۔ادھر گورنر سے فون پر پوچھا گیا ' mission accomplished؟'مگر انسدادِ دہشت گردی کے سربراہ عبدالقادر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شاید معلومات کسی بہت بڑی غلط فہمی کی بنا پر فراہم کی گئیں کیونکہ احوال اس سے یکسر مختلف ہے!اوراپنی نگرانی میں تحقیقات کا حکم جاری کر دیا، یہ امریکی سامراج کے منہ پر دوسرا زوردار طمانچہ تھا! مگر طاغوت بھی بھلا کبھی چین سے بیٹھا ہے؟ اب کی بار ایک اورگھناؤنا ڈرامہ رچایا گیا! بارہ اوباش فوجیوں کی ایک ٹیم کو یہ پٹی پڑھا کر اس مہم پر روانہ کیا گیا کہ انکا سامنا کسی عام لڑکی سے نہیں بلکہ اسامہ بن لادن کے نسوانی ورژن سے ہونے جا رہا ہے!'لحیم شحیم مدِمقابل' پر پے درپے گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ایک گولی عافیہ کے دل سے صرف ایک سینٹی میٹر کے فاصلے پر لگی،دوسری اسکے گردے کو چیرتی ہوئی نکل گئی اور تیسری نے اسکی آنتوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا اور یوں ایک 'خطرناک دشمن' پر قابو پا کر ملعون امریکی اپنی فتح کا جشن مناتے وہاں سے روانہ ہو رہے تھے کہ کسی نے کہا ، ابھی اسکی سانسیں چل رہی ہیں! بوکھلاہٹ کے عالم میں اسے پھر سے ventilator پر ڈال دیا گیا اور راتوں رات اسی زخمی حالت میں امریکہ بدر کر دیا گیا جہاں جاتے ہی الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اس پر اقدام ِ قتل کا مقدمہ درج کر دیا گیا!

الزام یہ لگایا کہ اسکے قبضے میں خطرناک ہتھیار تھے ( possession of ammunition)،جس سے اس نے 'امریکی فوجیوں پر ہتھیار (21 کلو وزنی M-4!) چلانے کی جسارت کی'، ایسا کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر انکی 'توہین' کی،اور 'جوابی فائرنگ' کے بعد جب اسے اٹھا یا جا رہا تھا تو اس نے احتجاجی مزاحمت ( resisting arrest)کی۔ایک سو گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہیں بھی یہ ذکر نہیں کہ اس نے القاعدہ کی معاونت کی ہو، دہشت گرد تنظیم کا فعال رکن بننے کیلئے کسی سینیر ممبر سے شادی رچائی ہو یا لیبیا میں ڈائمنڈز کی اسمگلنگ کی ہو۔ ان کی اپنی لیب یہ ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ رائفل پر عافیہ کی انگلیوں کے نشانات پائے گئے ہوں یا اس کمرے میں گولیوں کے خول کا کوئی سراغ ملا ہو مگر عالمِ اسلام کی یہ بیٹی پھر بھی موردِالزام ٹھہری!جج کا اپنا بیان ہے کہ میرے پاس ٹھوس شواہد نہیں تھے مگر ڈیفنس اٹارنی جنھیں امریکی حکومت کی جانب سے دو ملین ڈالر دیے گئے تھے، انکے تحریر کردہ بعض نکات،عافیہ کی اسلامی سوچ اور اسکے دو ٹوک طرزِکلام نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسکی سزا کی میعاد بڑھاوؤں!

امریکی انٹیلی جینس کے اس مختصر مدت میں انتہائی مضحکہ خیز ومتضاد بیانات انکی 'لیاقت 'کا منہ بولتا ثبوت ہیں!

ایک ادنی فہم کے آدمی کو بھی یہ بات باور کرانے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ دو کم سن بچوں اور ایک شیرخوار کے ہمراہ جہاد پر روانگی نہیں ہوتی! میدانِ جہاد اس کا متحمل ہی نہیں۔ مجاہدین اپنی مسلمان مستورات کو اسطرح کی صورتحال میں اپنے ساتھ ارضِ معرکہ میں صف آرا ہونے کی اجازت دیکر انکی جان جوکھوں میں ڈالنے پر یقین نہیں رکھتے! میڈیا کے موؤثر ہونے سے کون انکار کر سکتا ہے ؟ مگر امریکی عوام تک کی عقل بھی شاید ابھی تک گھاس چرنے تو نہیں گئی کہ وہ اپنی حکومت کی احمقانہ چالوں کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے اس درجے کی خرافات پر من و عن ایمان لے آئیں! بات موضوع سے ذرا ہٹ کر ہی سہی مگر قارئین کی دلچسپی کیلئے شاید اسکا تذکرہ بے موقع نہ ہو گا کہ نشریاتی اداروں کی لغویات سے تنگ آ کر لوگوں کے رجحانات اب CSI, Sex in the City, Sesame Street کی طرف مائل ہونے لگے ہیں! یہاں تک کہ امریکی صدارتی انتخابات کی نسبت عوام الناس نے کہیں زیادہ جوش وجذبے سے Reality TV show American Pop Idol میں حقِ رائے دہی استعمال کیا!

ایک وقت تھا جب آزادیِ اظہار و گفتار امریکہ کا غرورہوا کرتا تھا، مگر حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا ہے کہ یہ ملک اب اندھیر نگری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے! اسکے پاسبان ریاستی دہشت گردی کی مثال قائم کرنے کے نئے ریکارڈز قائم کرتے چلے جا رہے ہیں۔'دہشت گردی کیخلاف جنگ 'کے نام پر لاتعداد افراد کی گمشدگی ، اغوا اورغیر انسانی تشدد معمول بنتا جا رہا ہے، محض پاکستان میں لاپتہ افراد کی عداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے!

ونسٹن چرچل نے کسی وقت امریکیوں پر فقرہ چست کیا تھا: "آپ امریکیوں سے ہر صحیح قدم اٹھانے کی توقع کر سکتے ہیں، جب وہ تمام غلط اقدامات سے فراغت پا چکے ہوں"!ایسا لگتا ہے کہ اس صحیح قدم کے اٹھانے میں مہلت کم ہوتی جا رہی ہے کہ قانون اور انصاف کی اجارہ داری قریباً ناپید ہی ہو چکی!حالات کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور صورتحال بے قابو ہوتی نظر آتی ہے!جون لی کارغالباً ٹھیک ہی کہتا ہے کہ امریکہ اپنی تاریخ کے اس موڑ پر آپہنچا ہے جہاںطاقت کا نشہ ہذیانی پاگل پن کا روپ اختیار کر چکاہے!

 

٭٭٭٭٭

 

آزمائش کے ان کڑے لمحات میں ہم سب عافیہ صدیقی کے خاندان والوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ وھن میں مبتلا ہم مسلمانوں کی دعائیں، نیک تمنائیں، اور خیالات و جذبات ہر قدم پر اس خاتون کے ساتھ ہیں جس نے مانندِ شمع، سحر ہونے تک ہر ہر رنگ میں جل کر ہمیں عزت و وقارسے جینے کا ڈھنگ سکھایا ہے۔بعض حلقے اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ مجرم کا مردہ ضمیر شاید جاگ اٹھے گا اور وہ اپنے ملک پر لگی اس کثافت کو دھونے کے واسطے ہی سہی،منصفانہ رویہ اپنائے گا مگر جہاں اپنے محافظ بے غیرتی کا لبادہ اوڑھ لیں اوراپنی عزت کوڑیوں کے مول نیلام کرنے میں عار محسوس کرنے کی بجائے سرِ عام اپنے کارہائے سیاہ کی تشہیر کرنے لگیں، وہاں اوروں سے کیا گلہ اور کیسے انصاف کی امید؟

یہاں پر نامِ نہاد پاکستانی حکمرانوں کی بے حسی کا ماتم کرنا بے جا نہ ہو گا جنکی نظریں ایوانِ اقتدار میں کرسیاں ہتھیانے سے کبھی آگے بڑھ نہیں سکیں۔یہ نہ صرف ملک بلکہ دینِ حنیف کے نام پر بھی کلنک کا ٹکہ ہیں۔میری یہ اولو العزم بہن جہاں قید ہے وہ ایک تنگ سا کمرہ ہے جہاں نہ کھڑکی ہے نہ روشنی،سانسوں کی ڈوری چالو رکھنے کے واسطے روکھی سوکھی دروازے کے ذریعے سیل کے اندر پہنچا دی جاتی ہے،بطور احسان، ورزش کیلئے ایک گھنٹہ مختص کیا گیا ہے۔ یہ ہے عافیہ کی حالیہ دنیا کے شب و روز کی حکایت! جو نرم و گداز بستروں پر میٹھی نیند لینے والے حکومتی کارندوں کو سر تا پا جھنجوڑ دینے کیلئے تاحال کافی ثابت نہیں ہوئی!

عدالت میں زبردستی زخمی حالت میں لائی گئی عافیہ نے کمرۂ عدالت میں موجود سینیٹرز کی جانب مڑ کر دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ ہے کوئی مسلمان؟ جو خواہ میرے پر بیتنے والی قیامت سے بیشک نظریں چرا لے مگرکم از کم اس بات پراسکا خون کھول اٹھے کہ یہ کتاب اللہ کے اوراق میرے آگے پھاڑ کر پھینکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس پر برہنہ چلو! ایسا کرنے کو بھائی اور وکلاءسے ملاقات سے مشروط کر دیتے ہیں۔میں ان سے نہ ملنا گوارا کر لیتی ہوں مگر جو کلام محمد کے قلب پر میر رب نے القاءکیا اس کی توہین کرنا مجھے منظور نہیں! مگر پھر یہ بدبخت مجھے کپڑے نہیں دیتے !میں ان سے کہتی ہوں کہ مجھے میرے کمرے میں اکیلا چھوڑ دو مگر میری کوئی شنوائی نہیں!اس پر مستزاد یہ کہنا کہ میں تعاون نہیں کرتی تو آپ فیصلہ کریں کہ کیسے کروں تعاون؟؟؟کتنے ہی لوگوں نے اس کی یہ رونگٹے کھڑے کر دینے والی فریاد سنی مگر پورے عالمِ اسلام میں کون کھڑا ہوا؟

جس وقت چھیاسی سال قید کی سزا سنائی گئی تو سگا بھائی عدالت میں موجود تھا مگر ظالموں نے اسے ایک بار بہن کو گلے لگانے نہیں دیا! اسکے تمام حقوق اسی وقت سلب کر لیے گئے۔اسکی چادر کو جبر اً نوچ کر پھاڑ دیا گیااور اس پر بس نہ کی۔جس قرآن کو سینے سے لگا کر وہ دل کو تسلی دے دیا کرتی تھی، وہ بھی اس سے چھین لیا۔اس نے یہی کہا کہ مر تو میں اسی دن گئی تھی جب میری گود سے میرا شیرخوار چھینا تھا اور میرے بچوں کو مجھ سے جدا کیا تھا مگر وہ موت کچھ نہ تھی اس موت کے مقابلے میں کہ جب میرے کپڑے تا ر تار کیے گئے اور میری عصمت کو داغدار کیا گیا۔ڈاکٹر فوزیہ کہتی ہیں کہ میں نے ماں سے کہا کہ وہ قرآن کے بنا کیسے رہ پائے گی تو پرعزم ماں نے کہا حوصلہ رکھو۔ستر ماوؤں سے زیادہ محبت کرنے والے رحمان و رحیم رب نے شاید اسی دن کیلئے اسے حافظِ قرآن بنایا تھا۔جتنا انہوں نے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی، اسے اللہ نے اتنی ہی عزت دی کہ بیشک عزت و ذلت کے معاملات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔وہ یقینا اس سے کوئی بہت بڑا کام لینا چاہتا ہے جو اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اسے زندہ رکھے ہوئے ہے اور ہم اسکی رضا کے آگے سر تسلیم خم کرنے والوں میں سے ہیں اور ان کفار سے کبھی رحم کی بھیک نہیں مانیں گے!

 

٭٭٭٭٭

 

کہ' فک العانی' ہے حکم ِ نبی جو قرض ہے تم پر!

آپ عافیہ کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟

یہ بات یاد رہے کہ بگرام اور گوانتنامو بے سے رہا ہونے والے برطانوی قیدیوں کی رہائی عمل میں لانے کا باعث کٹھ پتلی عدالتیں یا وکلاءنہیں بلکہ عوامی دباوؤ اور سیاسی قوت تھی۔عافیہ کو چھڑانے کیلئے یہ دباؤ بہرحال موثر ہو سکتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اِس موقع کو اِس مقصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے کہ جاہلیت کے خلاف یہاں پر ایک آتش فشاں جنم لینے لگے۔ یہاں رہبر رہزن بن چکے ہیں۔ طاغوت عالمی ہوں یا مقامی، اِن لوگوں کوجو کرنا کرانا ہے وہ تو سب کو معلوم ہے، مگر اِس مسئلہ میں ان کو 'ایکسپوز کر دینا نہایت ضروری ہے۔ ذیل میں ہم جو بعض چیزیں تجویز کریں گے، وہ درحقیقت اِسی باب سے ہیں ، نہ کہ اِس باب سے کہ ہم اِن ظالموں سے عافیہ کیلئے رحم کی بھیک مانگنے چلے ہیں۔ مزید برآں، یہ یعض عملی تجاویز آپ کیلئے ایک فرد کے طور پر ہیں۔ جہاں تک مسلم گروپوں، فورموں، اور چینلوں کا تعلق ہے اور جہاں تک ہماری قابل فخر جہادی جماعتوں کا تعلق ہے، تو ان کے فرائض اور ہیں، اور جن سے ان شاءاللہ وہ آگاہ بھی ہوں گے۔ ہم یہاں آپ کو ایک عام فرد کے طور پر سامنے رکھ کر کچھ عملی تجاویز دینے چلے ہیں۔ مزید برآں، ایک زوردار رد عمل کو سامنے لا کر، جو ہر ہر سطح پر ہو، امریکہ کو یہ احساس دلائے جانے کی ضرورت ہے کہ ہماری آزادی خواہ وہ شخصی ہو یا قومی، اسکے ہاتھوں کا کھلونا نہیں! ہم بطور امت ابھی زندہ ہیں اور اپنی ماوؤں، بہنوں ، بیٹیوں کا درد ہمارے دلوں کو چھلنی کر دیتا ہے! اِن عملی تجاویز کی بابت یہ بھی واضح رہے، کہ یہ ایک طرح سے ہم آپ کو اپنے اُن بعض 'میڈیا گروپس' کا پیغام پہنچا رہے ہیں جو عافیہ کے مسئلے کو پوری دنیا میں اٹھانے کیلئے بین الاقوامی سطح پر سرگرم عمل ہیں۔ ظاہر ہے میڈیا کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر ہلچل پیدا کرنے کیلئے اُنہی تدابیر کو اختیار کیا جاتا ہے جو بالعموم ہر شخص کی پہنچ میں ہوں۔

٭ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی اپیل پر کان دھریے۔انکا کہنا ہے کہ عافیہ کی اتنی عظیم قربانی کی لاج رکھنی ہے تو خدارا تمام تفرقات کو بالائے طاق رکھ کر لا الہ الااللہ پر متحد ہو جائیے کہ کافر اسی چیز سے لرزہ بر اندام ہے۔ہماری ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں انکو پریشان نہیں کرتیں بلکہ ہمارا ایک ہو جانا انکے لیے ایک بھیانک خواب ہے! وقت آگیا ہے اب کہ اس کلمے کی افادیت سے امت ِ مسلمہ میں ایک نئی روح پھونک کر عملی میدان میں بنیان مرصوص بن کر دنیا کے سامنے نمودار ہوں۔

٭ مقدمہ کے اگلے راؤنڈ میں جانے کیلئے عافیہ کے کیس کو لے کر چلنے والوں کو فنڈز کی ضرورت ہے۔ ان کی مالی معاونت کیجئے

٭ باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستانی وزیرِ داخلہ کی مداخلت عافیہ کی بازیابی میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، اِن صاحب کو غیرت دلانے میں بھی کچھ حرج نہیں۔ مزید برآں، اپنے خطوط کے ذریعے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈرپر عافیہ کی فوری رہائی اور وطن واپسی کیلئے دباوؤ ڈالیے۔ اُن لوگوں کو یہ اندازہ ہو جانا چاہئے کہ اِس قوم کیلئے اُس کی ایک بچی کتنی اہم ہے۔

٭ اپنا غیظ و غضب ریکارڈ پر لانے کیلئے پاکستانی حکومت کے نام مراسلے لکھیے۔ گو کہ حکومت کی جانب سے آخر کار باضابطہ طور پر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ پچھلے ہفتے کیا جا چکا ہے(جبکہ پانی سر سے گزر چکا تھا!)، مگر عوام کا پریشر اگر بہت بڑھ جاتا ہے تو اپنی تباہ شدہ ساکھ کو بحال کرنے اورعوام کے غم و غصے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے انہیں ہنگامی بنیادوں پرحکومتی سطح پر امریکہ سے دوٹوک بات کرنی ہو گی۔امریکی عدالت کی تاریخ میں ایسی نوے مثالیں موجود ہیں جہاں اقوام ِ متحدہ کنونشن کے تحت سیاسی بنیادوں پر ایسے ملزمان کو بری کر دیا گیا۔علاوہ ازیں، قیدیوں کے تبادلے سے متعلق موجود کنونشن کے تحت بھی عافیہ کو امریکہ بدر کیا جا سکتا ہے۔اور کیونکہ اس معاملے کو پاکستانی عوام کی بے پناہ تائیدحاصل ہے ، لہذا اس سلسلے میں حالات و وقت کی نزاکت کے تحت ہو سکتا ہے امریکہ اِس کو اپنے ان گنت گناہوں کا 'کفارہ' ادا کرنے کایہ ایک ذریعہ باور کرنے لگے !

٭ اگر آپ ابھی تک عافیہ کے گھر والوں تک اپنے جذبات نہیں پہنچا سکے تو یہی موزوں ترین وقت ہے!

٭ اگر آپ اس موضوع کی بابت آگہی پھیلانے میں حصہ لینا چاہیں تو ادارہ ایقاظ سے رابطہ کر کے لٹریچر طلب کر سکتے ہیں۔

٭ اس یوم ِ سیاہ کے حوالے سے عافیہ کو باور کرائیے کہ وہ اس جنگ میں تنہا نہیں! آپکے تحریر کردہ خطوط اس تک پہنچتے ہیں، خط و کتابت کا پتہ درج ذیل ہے:

AAFIA SIDDIQUI # 90279-054
FMC CARSWELL
FEDERAL MEDICAL CENTER
P.O. BOX 27137
FORT WORTH, TX 76127
U.S.A

 

٭ سب سے بڑھ کر یہ کہ عافیہ کو اپنی خصوصی دعاوؤں میں فراموش نہ کیجئے!

 

٭٭٭٭٭

 

 

Nis Awan

The Sign of Sincerity

 

"Mera Hathon Aur Honton Se Khushboo Jati Nahi K 

Main Ne Ism-e-MOHAMMAD (S.A.W) Ko Likha Buhat aur Chuma Buhat Hy"

 

{تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ھو فراز

دوست ھوتا نہیں ھر ھاتھ ملانے والا }

 

 

--
{{{{ Rawalpindi-Islamabad Friends}}}}
 
************************************************************************************
All members are expected to follow these Simple Rules
Abuse of any kind (to the Group, or it's Members) shall not be tolerated
SPAM, Advertisement, and Adult messages are NOT allowed
This is not a Love, Dating Forum so sending PM or Chat Inv will be considered as illegal Act. will be BANED Instantly.
************************************************************************************
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "Pindi-Islamabad Friends" group.
To post to this group, send email to Pindi-Islamabad@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
Pindi-Islamabad+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/Pindi-Islamabad?hl=en

No comments:

Post a Comment