Saturday, July 21, 2012

**JP** کوئی تو ہے جو نظام۔ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے


 السلام علیکم ۔۔۔۔ ایک بہت ہی عمدہ تحریر ۔۔۔۔ سوچا آپ تمام احباب سے بھی شیئر کر لی جائے ۔۔۔۔۔ اللہ ہم سب کو صحیح و غلط کی اچھی سمجھ بوجھ عطا فرمائے ۔۔۔۔ 



کبھی آپ نے غور کیا کہ آپ کا کوئی پیارا جس سے آپ محبت کرتے ہیں جسے آپ چاہتے ہیں جسے آپ اپنا کہتے ہیں جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں جسے آپ پسند کرتے ہیں ،جسکی محبت کا آپ اعلان کرتے ہیں جس کی ہر ضرورت کو آپ پورا کرتے ہیں جس کے دل میں آپ رہتے ہیں وہ اپنی کوئی ضرورت کوئی حاجت کسی اور کے توسّط سے آپ تک پہنچائے اور مانگے تو آپ کو کیسا لگے گا آپ کیا سوچیں گے ،یقیناً بہت عجیب لگے گا ، آپ کو دکھ ہوگا کہ اس نے آخر خود آپ سے کیوں نہیں مانگا کسی اور کا سہارا کیوں لیا 

آپ ایک باپ ایک ماں ہیں آپ کا بیٹا آپ کے ہوتے ہوئے پڑوس میں جا کر مانگتا ہے گڑگڑاتا ہے ان سے مدد مانگتا ہے کیا جو آپ اپنی اولاد کے لئے قربانی دے سکتے ہیں کوئی پڑوسی دے گا کیا وہ جو آپ مدد کرسکتے ہیں آپ کے مقابلے میں کر پائے گا ، کیا آپ گوارہ کریں گے کہ آپ کے ہوتے ہوئے جب کہ آپ میں اپنے پیاروں کی بھرپور کفالت کرنے کی صلاحیت ہے آپ کے پیارے دوسروں کا درواذہ کھٹکھٹا رہے ہوں دوسرے کی چوکھٹ پر پڑے ہوں اور رحم کی بھیک مانگ رہے ہوں ،آپ ایک انسان ہوتے ہوئے اپنی انا اپنی عزّت اپنے وقار کو مجروح ہوتا نہیں دیکھ سکتے تو پھر بتائے وہ اللہ پاک جس نے ہمیں تخلیق کیا جس نے ناممکنات میں سے ممکنات کو وجود دیا جس نے بے جان سے جاندار اور جاندار سے بےجان کو وجود دیا جس نے حیرت انگیز نظام قدرت سے ایک نطفے کو انسان کی دلکش مکمل شکل عطا کی دل و دماغ عطا کیا ہاتھ پاؤں عطا کئے شعور عطا کیا عقل و خرد سے نوازا ایک شہکار بنایا کم وبیش اٹھارہ ہزار مخلوقات میں اشرف المخلوقات کا رتبہ دیا تمام مخلوقات پر فوقیت عطا فرمائی زمین پر خلیفہ کی حیثیت دی وہ انسان اس رب۔ کائنات کو چھوڑ کر کسی اور سے مانگیں مدد کے لئے پکاریں اور سوال کریں تو کیا اللہ پاک راضی ہوگا ،ہر گز نہیں آپ کی عزّت آپ کی انا آپ کے کچھ اصول و ضوابط ہیں تو کیا آپ کے رب کے نہیں ہیں آئیے اس بات پر غور کریں سوچیں اس بارے میں ،کون ہے جو دینے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لا الہ الا اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں اس رب سے مانگنا کیسے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد رسول اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ترتیب پر 
آئیے ہم اللہ سے مانگنا سیکھیں کہ وہ ہم سب کا پالن ہار ہم سب کا مولا ہم سب کا داتا ہم سب کا مشکل کشا ہم سب کا حاجت روا ہم سب کا مالک ہم سب کا خالق ہم سب کی سننے والا ہے ہم سب کی بگڑی بنانے والا ہے 

کوئی تو ہے جو نظام۔ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے
دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آرہا ہے ، وہی خدا ہے

طالب۔نظر

اسماعیل اعجاز خیال
 



Regards
BazMi
Karachi-Pakistan





 

FW: **JP** Letter to Editor - Elections and the CEC

CEC must take action…the  violation of rules and regulations could be seen during voting..and particularly the constituency in which qadir gailani wins…every person know within 2 hours in between 10 to 9 PM result was changed in favors of qadir galani…it was a totally fake election..so we request CEC to declare this election nul… and announce new voting date…..

 

From: joinpakistan@googlegroups.com [mailto:joinpakistan@googlegroups.com] On Behalf Of Riaz Jafri
Sent: Saturday, July 21, 2012 10:02 AM
To: Join Pakistan
Subject: **JP** Letter to Editor - Elections and the CEC

 

Dear Join Pakistan

 

LETTER TO EDITOR

July 21st, 2012

 

Elections and the CEC

Syed Musa Raza Gilani has won, congratulations,  though by a margin narrower than claimed which should be an eye opener for the PPP.  Since it was the first election under the new set of rules, the CEC must take strict account of whether its rules were abided by the contestants in toto or not.  If not, the results must be declared Null and Void. It is a test case for the CEC and important to set a precedence for all to follow in future.  It is a common knowledge that rules are framed and formulated but rarely implemented, with the result they just become a mockery of the rules and are flouted without any fear of impunity by those in power.  

Hope the CEC is listening in its own interest to establish its authority and deliver as expected of it – a fair and transparent elections?

 

Col. Riaz Jafri (Retd)

Col. Riaz Jafri (Retd)
30 Westridge 1
Rawalpindi 46000
Pakistan
Tel: (051) 5158033
E.mail: jafri@rifiela.com

--
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "JoinPakistan" group.
You all are invited to come and share your information with other group members.
To post to this group, send email to joinpakistan@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com.pk/group/joinpakistan?hl=en?hl=en
You can also visit our blog site : www.joinpakistan.blogspot.com &
on facebook http://www.facebook.com/pages/Join-Pakistan/125610937483197

**JP** یر غمال بوڑھے وا لدین



مین نے یہ مضمون میگزین کے لیے لکھا ہے امید پسند آئے گا
شکریہ
عینی نیازی  
عین الیقین
یر غمال بوڑھے وا لدین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
   ثمینہ آج کل نہایت مصروف تھی اس کا گھر پنچا یت کا گڑھ بناہوا تھا اس کا ایک قدم بڑے جیٹھ کے گھر تو کبھی دوسرا قدم چھوٹے جیٹھ کے گھر کبھی ایک پا ئو ں بڑی آپا(نند) کے ہاں تو کبھی  دوسر اپا ئوںبا جی (نند )کے گھر چکر کا ٹنے میں گزر جا تا تھا وہ اپنے مثبت مزاج کے باعث فریقوں کے درمیا ن رابطہ کا زر یعہ یا گھن چکر بنی ہو ئی تھی ۔بات دراصل یہ تھی کہ ثمینہ کے بڑے جیٹھ اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی میں را زی خوشی سب بہن بھا ئیوں کو شریک رکھنا چا ہتے تھے لیکن! ان کی تمنا کسی طرح پوری ہو تی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ بڑی با جی نے شادی میں شرکت کا با یکا ٹ کر دیا مو قف ان کا بھی درست تھا ا نھیں غلہ تھا کہ جب انھوں نے اپنی پہلی بیٹی کی شادی کی تو بڑے بھا ئی صا حب ایک معمولی سی با ت کو لے کر اتنے نا راض ہوئے کہ شادی میں شریک نہ ہو ئے وہ خود تو شریک نہ ہو ئے نہ سہی،اپنے ساتھ بوڑھے وا لدین کو رکھنے کے زعم میں نا نا، نانی کو بھی نواسی کی شادی میں شرکت کی اجا زت نہ دی نواسی کی شادی میں شرکت کرنے کاارمان لئے نانا، نا نی دل مسوس کر رہ گئے وہ دونوں کر بھی کیا کر سکتے تھے بیٹے کی حکم عدولی کا مطلب تھا گھر سے در بدری جو وہ بلکل افورڈ نہیں کر سکتے تھے اور بچوں کی نسبت  وہ اپنے بڑے بیٹے کے ہا ں زیا دہ سہولت سے گزر بسر ہو رہی تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر بڑ ے بیٹے نے ماں ،با پ کو یر غمال بنا لیا تھا جس سے جی چا ہتا انھیں ملنے دیتے جس سے وہ خود نا راض ہو تے تو ما ں با پ کو بھی جر ات نہ تھی کہ وہ ان سے رابطہ رکھتے خواہ وہ ان کی سگی اولاد ہی کیوں نہ ہو ثمینہ نے مجھے ایک مر تبہ اپنا قصہ بھی سنایا تھا کہ کس طرح ا سکے شوہر اور جیٹھ میں کسی بات پر تکرار ہو گئی تھی تو جیٹھ صا حب نے ماں باپ کو پانچ سال تک بیٹے سے ملنے نہیں دیا ثمینہ کے شوہر کبھی کسی تقریب تو کبھی کسی رشتہ دار کے ہاں اتفاقا ما ں، باپ سے ملتے وہ بھی چوری چھپے کہ بھائی کو پتہ نہ چل جا ئے یہ سلسلہ پا نچ سال تک چلا آخر صلح صفا ئی ہو ئی اور ما ں ،باپ سے ملنے کے راستے بحال ہو ئے لیکن۱ اب سیر کو سوا سیر کے مترادف بڑی با جی ادھار چکا نے کے موڈ میں تھیںسو وہ اس شادی میں کسی صورت شریک ہو نے پر راضی نہ تھیں جیٹھ صاحب کی جا نب سے  خاندان کے برزگوں کو سفارشی مشن پر بھیجا جا رہا تھا معا فی اور در گزر کی کئی اسلا می اور خاندانی روایات وکہا نیوں کے حوالے اورمثا لیں پیش کی جا رہی تھیں مگر بڑی با جی ٹس سے مس نہ ہو ئیں خا ندان کے تما م بزرگ ان کی اس دلیل کے آگے خاموش ہو جا تے اور انھیں حق بجانب سمجھتے ان کا شکوہ تھا کہ بڑے بھا ئی کود شریک نہ ہو ئے کو ئی بات نہیں مگر ماں ،ابا کو تو شرکت کی اجازت دے سکتے تھے میرے گھر کی پہلی شادی تھی بھائی صا حب نے اماں ابا کو یر غمال بنا رکھا ہے ۔یہ ایک ہمارے معاشرے کا عام سا واقعہ ہے مگر المیہ یہ  ہے کہ نجا نے ایسے کتنے والدین ہیں جو اپنے بچوں کے ہا تھوں یر غما ل ہیںنہ اپنی مرضی سے کہیں آجا سکتے ہیں نہ کسی سے ملا سکتے ہیں اسی قسم کا ایک واقعہ ٹی وی پرایک سما جی پروگرام میں دیکھا جس میں ایک بوڑھے والد اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے کر آئے والد بزرگوار کے تین بیٹے تھے انھوں نے ڈرائیور کی نو کری کرتے ہو ئے تینوں بیٹوں کو بہت اعلیٰ تعلیم دلا ئی بیٹوں نے تعلیم سے فر اغت کے بعد جب زندگی کی دوڑ میں اچھے اسٹیٹس پر پہنچے تو والد کو اپنے پر انے دوستوں سے رابطہ رکھنے پر پا بندی لگا دی بیٹے اس با ت پر ہتک محسوس کرتے تھے کہ انکے والد معمولی کام کرنے والوں سے ملنا جلنا رکھیں ۔ ہماری مشرقی اقدارمیں  والدین کی خدمت اور تعظیم پر اب بھی بہت سے گھرانے سختی سے پا بند ہیںلیکن! جس تیزی سے ہما رے سماج میں مغربی لا ئف اسٹائل در آمد ہو رہے ہیں اس کی نظیر پہلے کبھی نہیں ملتی اب سے محض چند سال پہلے اولڈ ہا وس کے نام سے ہما رے لوگ سو چتے  تھے کہ کیسی بری اولا د ہے جو والدین کو اولڈ ہا وس میں قید کرا دیتی ہے مگر آج ہمارے اپنے ملک میں بز رگوں کے لیے پنا ہ گا ہیں بننی شروع ہو گئی ہیں اب نہ کو ئی چو نکتا ہے نہ افسوس و دکھ کا اظہا ر کرتا ہے کسی کو بھی اس با رے میں سو چنے کی فر صت نہیں ہے سب نے مصلحت کی چادر اوڑھ لی ہے اور کہیں والدین اولاد کے ساتھ رہتے بھی ہیں تو وہاں ثمینہ جیسی مثالیں بھی مو جود ہیں اولادوں نے اپنا ہی ضابطہ اخلاق والدین پر لا گو کیا ہوا ہے کہ جہاں جس سے ہم ملیں گے ا ٓپ بھی اسی سے ملیں گے ورنہ سے آ گے بہت کچھ ہے جو والدین کو یر غمال بننے پر مجبور کئے ہو ئے ہے ۔    
)    سمجھ نہیں آتا کہ ہم اپنے بزرگوں سے اس قدر لا پراوئی اور بے حسی کا رویہ کیوںر کھتے ہیں شائدہم بھول جا تے ہیں کہ ہم نے بھی کبھی بوڑھا ہو نا ہے بات چل نکلی تو میں آپ کو ایک اور رویہ سے متعارف کراتی جا ئوں اسی معا شرے میں ایک ایسی خا تون کو جا نتی ہوں جو اکلوتی بہو ہو نے کے زعم میں مبتلا ہیں گھر میںساس بہو کی معمولی سی ان بن پر وہ پچھلے پندرہ سالوں سے اپنی ساس سے ناراض ہیں اورایک ہی گھر میں رہتے ہو ئے سلسلہ کلام کو بند کئے ہو ئے رہنا اس طرح کی بے رخی وہ کس طرح نبھا تی ہو ں گی عقل حیران ہے ۔ان کی بوڑھی ساس کو خاندانی تقریبات میں خاموشی سے کو نے میں بیٹھے دیکھتی ہو ں تو دل بہت دکھی ہو تا ہے کیونکہ اس نا رضگی والی با ت کا بہت کم لو گوں کو علم ہے ایسی نجا نے کتنی خاموش مثالیں ہمارے آس پا س مو جو د ہیں ہمیں خبر بھی نہیں ہو گی وقت جس تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم ماہ سال کو گن بھی نہیں پا تے کہ کیلنڈر تبدیل ہو جاتے ہیں یہ یا د رکھنا چا ہیے کہ بے بسی کا یہ دور جلد ہم سب پر بھی آنے والا ہے خدارا اپنے بزرگوں سے اچھے  برتائو کی ایسی مثالیں اپنے بچوں کے سامنے پیش کر یں کہ وہ بزرگوں کی خدمت کو زندگی کالازم و ملزوم حصہ سمجھنے لگے آج اگر ہم اپنے والدین کو یر غمال بنا ئیں گے تو کل تا وان بھی تو ہمیں ادا کرنا ہو گا یہ تو سب جا نتے ہیں کہ جیسا کریں گے ویسا ہی بھریں گے  ۔ 























--
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "JoinPakistan" group.
You all are invited to come and share your information with other group members.
To post to this group, send email to joinpakistan@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com.pk/group/joinpakistan?hl=en?hl=en
You can also visit our blog site : www.joinpakistan.blogspot.com &
on facebook http://www.facebook.com/pages/Join-Pakistan/125610937483197

RE: **JP** Aakhri Fasle ka Intazr kroo .......

یہ قوم ذلت کی پستی میں گرچکی ہے۔ اور اس قوم نے اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو عذاب عامہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اللہ ہم سب کو محفوظ کرے۔


Date: Sat, 21 Jul 2012 10:41:51 +0400
Subject: **JP** Aakhri Fasle ka Intazr kroo .......
From: nisar.awan98@gmail.com
To: My-Diary@yahoogroups.com; Brilliant-Pakistan@yahoogroups.com; madinaway@yahoogroups.com; MasjidNabwi@yahoogroups.com; sadqayyarasolallah@yahoogroups.com; PakistanWritersClub-Riyadh@yahoogroups.com; Reality_B2A@yahoogroups.com; Fawad.Hannan@saipem.com; joinpakistan@googlegroups.com


Nisar Awan

The Sign of Sincerity

{{ Sakht raton mein bhi safar asaan lagta hai,

Yeh meri Maan ki duaayon ka assar lagta hai."}}

 


--
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "JoinPakistan" group.
You all are invited to come and share your information with other group members.
To post to this group, send email to joinpakistan@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com.pk/group/joinpakistan?hl=en?hl=en
You can also visit our blog site : www.joinpakistan.blogspot.com &
on facebook http://www.facebook.com/pages/Join-Pakistan/125610937483197

**JP** Letter to Editor - Elections and the CEC

Dear Join Pakistan

 

LETTER TO EDITOR

July 21st, 2012

 

Elections and the CEC

Syed Musa Raza Gilani has won, congratulations,  though by a margin narrower than claimed which should be an eye opener for the PPP.  Since it was the first election under the new set of rules, the CEC must take strict account of whether its rules were abided by the contestants in toto or not.  If not, the results must be declared Null and Void. It is a test case for the CEC and important to set a precedence for all to follow in future.  It is a common knowledge that rules are framed and formulated but rarely implemented, with the result they just become a mockery of the rules and are flouted without any fear of impunity by those in power.  

Hope the CEC is listening in its own interest to establish its authority and deliver as expected of it – a fair and transparent elections?

 

Col. Riaz Jafri (Retd)

Col. Riaz Jafri (Retd)
30 Westridge 1
Rawalpindi 46000
Pakistan
Tel: (051) 5158033
E.mail: jafri@rifiela.com

--
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "JoinPakistan" group.
You all are invited to come and share your information with other group members.
To post to this group, send email to joinpakistan@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com.pk/group/joinpakistan?hl=en?hl=en
You can also visit our blog site : www.joinpakistan.blogspot.com &
on facebook http://www.facebook.com/pages/Join-Pakistan/125610937483197